اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل بیجنگ پہنچ گئے، چینی نائب صدر سے اہم مشاورت
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں چین کے نائب صدر اور وزیر خارجہ وانگ یی نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل سے بیجنگ میں اہم ملاقات کی ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ اور سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق یہ ملاقات پیر کے روز ہوئی، جس میں خطے کی صورتحال اور سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ شدت اختیار کر گیا ہے۔ ایک ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی حملے کو ہم پر مکمل جنگ مسلط کرنے کے مترادف سمجھا جائے گا۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا نے ایران کی جانب ایک بحری بیڑا روانہ کر دیا ہے، جو محض احتیاطی اقدام ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ مظاہرین کو قتل نہ کرے اور اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرے۔
ایران میں احتجاج اور ہلاکتیںعلاقے میں موجود ایک ایرانی عہدیدار کے مطابق اتوار کے روز بتایا گیا کہ ایران میں معاشی بدحالی کے خلاف احتجاج کے دوران کم از کم 5 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ احتجاج دسمبر کے آخر میں شروع ہوئے تھے، جن کی بنیادی وجوہات میں مہنگائی، کرنسی کی شدید قدر میں کمی اور امریکی پابندیوں کے باعث پیدا ہونے والا معاشی دباؤ شامل ہے۔
بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے علاقائی سلامتی شراکت داری قائم کی جائے اور تنازعات کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق وانگ یی نے کہا کہ خطے کے حساس مسائل کو بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
امریکی فوجی نقل و حرکتامریکی حکام نے اعلان کیا ہے کہ ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور کئی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز آئندہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ پہنچ جائیں گے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ایران میں احتجاج کی وجوہاتایران میں جاری احتجاج کی جڑیں شدید معاشی مسائل میں پیوست ہیں، جن میں بلند افراطِ زر، کرنسی کی قدر میں تاریخی کمی اور امریکی پابندیوں کے باعث معیشت کی کمزور حالت شامل ہے۔
احتجاج کا آغاز 28 دسمبر کو تہران کے تاریخی گرینڈ بازار سے ہوا، جو بعد ازاں ملک کے دیگر شہروں تک پھیل گیا۔
گرفتاریوں اور تشدد کی اطلاعاتامریکی فنڈ سے چلنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں، جن میں ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی شامل ہے، کے مطابق احتجاج کے پہلے ہی ہفتے میں درجنوں افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد گرفتاریاں ہوئیں۔
مغربی اور جنوبی شہروں میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی رپورٹ ہوئیں۔
ایران کا الزام: بیرونی طاقتیں ملوثایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ صرف اندرونی بحران نہیں بلکہ بیرونی قوتیں ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل سے وابستہ عناصر تشدد بھڑکانے کے ذمہ دار ہیں اور وہ ایران کو کمزور کرنے کے لیے احتجاج کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔