پنجاب حکومت کا بڑا سرپرائز,شہریوں کو ٹی کیش کارڈ جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
طاہر جمیل: پنجاب میں جدید، یکساں اور کیش لیس سفری نظام کے قیام کے لیے پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی نے عملی اقدامات تیز کر دیئے ہیں،صوبہ بھر میں ٹی کیش کارڈ کے حصول کے لیے اب تک 1 لاکھ 30 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جبکہ ابتدائی مرحلے میں 66 سے زائد شہریوں کو ٹی کیش کارڈ جاری بھی کر دئیے گئے ہیں۔
ٹی کیش کارڈ کے ذریعے شہری میٹرو بس، اورنج لائن، سپیڈو اور ای بس سروسز میں ایک ہی کارڈ سے سفر کر سکیں گے، جس سے کیش کے بغیر ٹکٹنگ ممکن ہو گی اور سفر مزید آسان، محفوظ اور شفاف بنے گا۔ یہ کارڈ پنجاب بھر کے مختلف ٹرانسپورٹ سسٹمز تک شہریوں کی رسائی کو یکجا کرے گا۔
اولڈ ایسوسی ایٹس آف کنیرڈ سوسائٹی کے زیرِاہتمام کنیرڈ کالج میں ایمپاور ہر فیسٹیول
حکام کے مطابق ٹی کیش کارڈ کو ڈیبٹ کارڈ کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکے گا، جس کے ذریعے روزمرہ مالی لین دین کی سہولت میسر ہو گی۔ ٹی کیش کارڈ کا اجرا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قواعد و ضوابط کے مطابق کیا جا رہا ہے۔
شہری ٹی کیش کارڈ کے لیے ویب پورٹل، ای ٹرانزٹ ایپ یا ہیلپ لائن کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں، جبکہ کارڈ کی تیاری کے بعد اسے ہوم ڈیلیوری کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔ درخواست کی موجودہ صورتحال بھی ویب سائٹ، موبائل ایپ اور ہیلپ لائن کے ذریعے معلوم کی جا سکے گی۔
بنوں: پولیس موبائل وین پر حملہ، فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشتگرد جہنم واصل
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ٹی کیش کارڈ کے ذریعے کارڈ کے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔