لاہور: بسنت کے محفوظ انعقاد کے لیے ڈور، گڈا اور پتنگ بنانے کے عمل کی کڑی نگرانی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
ڈپٹی کمشنر لاہور کی زیر قیادت ضلعی انتظامیہ بسنت کے محفوظ اور قانون کے مطابق انعقاد کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنرز ڈور، گڈا اور پتنگ بنانے کے عمل کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق شہریوں اور کاروباری افراد کی جانب سے آن لائن پورٹل پر رجسٹریشن کا عمل جاری ہے، جبکہ اب تک 15 ایسوسی ایشنز اور 870 مینوفیکچررز کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔ اسی طرح ڈور، گڈا اور پتنگ کی فروخت کے لیے 1413 سیلز پوائنٹس اور 258 تاجروں کو بھی رجسٹر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بسنت پر پارکوں میں پتنگ بازی پر پابندی، لاہور میں ڈیجیٹل نگرانی کا فیصلہ
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ صرف سوتی دھاگے سے بنی ڈور کی اجازت ہوگی، جبکہ دھاتی، میٹل یا دیگر مضر مواد سے بنی ڈور پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔
پتنگ بازی کے سامان کے سائز بھی مقرر کر دیے گئے ہیں۔ ڈیڑھ تاوا گڈا جس کی چوڑائی 40 انچ اور لمبائی 34 انچ ہوگی، جبکہ اس سے بڑے گڈے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسی طرح ساڑھے چار گڈھی پتنگ کی چوڑائی 35 انچ اور لمبائی 30 انچ مقرر کی گئی ہے، مقررہ سائز سے بڑی پتنگ اڑانے پر پابندی ہوگی۔
انتظامیہ کے مطابق 31 جنوری تک صرف پتنگ بازی کا سامان تیار کیا جا سکے گا، جبکہ یکم فروری سے 8 فروری تک سامان کی ترسیل کی اجازت ہوگی۔ ضلع لاہور کی حدود سے باہر سے پتنگ بازی کا سامان منگوانے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب: بسنت، ہارس اینڈ کیٹل شو، میلہ چراغاں سمیت مختلف مذہبی تہواروں کی بحالی کا اعلان
ڈپٹی کمشنر لاہور نے موٹرسائیکل سواروں کو قیمتی جانوں کے تحفظ کیلئے سیفٹی راڈز نصب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پتنگ بازی میں استعمال ہونے والی خونی ڈور سے بچاؤ کیلئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق ضلعی انتظامیہ شہریوں کی حفاظت کے لیے فیلڈ میں متحرک ہے اور موٹرسائیکل سواروں کی سیفٹی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بسنت پتنگ پتنگ بازی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پتنگ پتنگ بازی پتنگ بازی کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔