پنجاب حکومت نے تھیٹر اور اسٹیج پرفارمنسز میں استعمال ہونے والے 132 پنجابی گانوں پر پابندی عائد کر دی ہے، جو غیر اخلاقی، فحش اور ذومعنی مواد پر مبنی ہیں۔

یہ پابندی ہر قسم کی اسٹیج اور تھیٹر پرفارمنسز پر لاگو ہو گی، خواہ وہ نجی ہوں یا کمرشل۔ محکمہ اطلاعات و ثقافت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ممنوع قرار دیے گئے گانوں کے بول، اشعار اور دھنیں اشتعال انگیز اور تھیٹر پرفارمنس کے طے شدہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پنجاب: بسنت، ہارس اینڈ کیٹل شو، میلہ چراغاں سمیت مختلف مذہبی تہواروں کی بحالی کا اعلان

یہ اقدام 13 اگست 2025 کو جاری کردہ تھیٹر پرفارمنس پالیسی کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ پابندی تاحکمِ ثانی نافذ رہے گی اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ پنجاب بھر کے تمام ڈویژنل اور ضلعی آرٹس کونسلز کے ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور نجی تھیٹرز کے مالکان و پروڈیوسرز کو سختی سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ ممنوعہ گانوں کی فہرست پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

محکمے نے خبردار کیا ہے کہ ذرا سی کوتاہی بھی برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ تھیٹر انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق، اس اقدام کا مقصد تھیٹر اسٹیج کو مہذب اور معیاری تفریح کی جانب واپس لانا ہے۔ تاہم، اس فیصلے کے اثرات تھیٹر انڈسٹری پر گہرے پڑنے کا امکان ہے، کیونکہ کئی پرفارمنسز اور پروڈکشنز کو اس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ فنکاروں اور پروڈیوسرز کی جانب سے اس پابندی پر مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں کچھ اسے ثقافتی صفائی کا اقدام قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے اظہار رائے پر قدغن سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بسنت پر پارکوں میں پتنگ بازی پر پابندی، لاہور میں ڈیجیٹل نگرانی کا فیصلہ

ادھر، پولیس کی جانب سے ایک علیحدہ اعلان میں کہا گیا ہے کہ بسنت کے دنوں میں ساؤنڈ ایکٹ سختی سے نافذ کیا جائے گا۔ اونچی آواز میں میوزک سننے یا بجانے والوں کو گرفتار کیا جائے گا، تاکہ عوامی امن و امان کو برقرار رکھا جا سکے۔

پولیس افسران کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بسنت کی تقریبات کے دوران شور شرابے اور ممکنہ حادثات کو روکنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے، ۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ قانون کی پاسداری کریں اور خاندانی ماحول کو برقرار رکھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بسنت پتنگ پنجاب گانا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پتنگ گانا کی جانب

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا