بسنت کے دنوں میں پنجاب حکومت نے 132 پنجابی گانوں پر پابندی کیوں لگا دی؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
پنجاب حکومت نے تھیٹر اور اسٹیج پرفارمنسز میں استعمال ہونے والے 132 پنجابی گانوں پر پابندی عائد کر دی ہے، جو غیر اخلاقی، فحش اور ذومعنی مواد پر مبنی ہیں۔
یہ پابندی ہر قسم کی اسٹیج اور تھیٹر پرفارمنسز پر لاگو ہو گی، خواہ وہ نجی ہوں یا کمرشل۔ محکمہ اطلاعات و ثقافت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ممنوع قرار دیے گئے گانوں کے بول، اشعار اور دھنیں اشتعال انگیز اور تھیٹر پرفارمنس کے طے شدہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب: بسنت، ہارس اینڈ کیٹل شو، میلہ چراغاں سمیت مختلف مذہبی تہواروں کی بحالی کا اعلان
یہ اقدام 13 اگست 2025 کو جاری کردہ تھیٹر پرفارمنس پالیسی کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ پابندی تاحکمِ ثانی نافذ رہے گی اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ پنجاب بھر کے تمام ڈویژنل اور ضلعی آرٹس کونسلز کے ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور نجی تھیٹرز کے مالکان و پروڈیوسرز کو سختی سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ ممنوعہ گانوں کی فہرست پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
محکمے نے خبردار کیا ہے کہ ذرا سی کوتاہی بھی برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ تھیٹر انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق، اس اقدام کا مقصد تھیٹر اسٹیج کو مہذب اور معیاری تفریح کی جانب واپس لانا ہے۔ تاہم، اس فیصلے کے اثرات تھیٹر انڈسٹری پر گہرے پڑنے کا امکان ہے، کیونکہ کئی پرفارمنسز اور پروڈکشنز کو اس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ فنکاروں اور پروڈیوسرز کی جانب سے اس پابندی پر مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں کچھ اسے ثقافتی صفائی کا اقدام قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے اظہار رائے پر قدغن سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بسنت پر پارکوں میں پتنگ بازی پر پابندی، لاہور میں ڈیجیٹل نگرانی کا فیصلہ
ادھر، پولیس کی جانب سے ایک علیحدہ اعلان میں کہا گیا ہے کہ بسنت کے دنوں میں ساؤنڈ ایکٹ سختی سے نافذ کیا جائے گا۔ اونچی آواز میں میوزک سننے یا بجانے والوں کو گرفتار کیا جائے گا، تاکہ عوامی امن و امان کو برقرار رکھا جا سکے۔
پولیس افسران کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بسنت کی تقریبات کے دوران شور شرابے اور ممکنہ حادثات کو روکنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے، ۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ قانون کی پاسداری کریں اور خاندانی ماحول کو برقرار رکھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بسنت پتنگ پنجاب گانا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔