کراچی: ہراسانی تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر پروفیسر ڈاکٹر عرفان علی چانڈیو برطرف
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
— فائل فوٹو
ڈاؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (ڈی یو ای ٹی) کراچی شعبہ ٹیلی کمیونی کیشن انجینئرنگ کے چیئرمین اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عرفان علی چانڈیو کو برطرف کر دیا گیا۔
یونیورسٹی کی جانب سے 26 جنوری 2026 کو جاری کردہ باضابطہ دفتری حکم نامہ کے مطابق یہ فیصلہ تحفظِ نسواں ایکٹ کے تحت ہراسانی سے متعلق قائم تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے کیا گیا۔
حکم نامہ میں واضح کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر عرفان علی چانڈیو کی برطرفی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔
اسی حکم نامہ کے تحت وائس چانسلر ڈی یو ای ٹی نے عبوری انتظام کے طور پر شعبہ الیکٹرانک انجینئرنگ کے چیئرمین ڈاکٹر محمد رؤف کو اضافی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ وہ آئندہ سینڈیکیٹ اجلاس تک شعبہ ٹیلی کمیونی کیشن انجینئرنگ کے چیئرمین کے فرائض بھی انجام دیں گے، جبکہ وہ اپنی اصل ذمہ داریاں بھی برقرار رکھیں گے۔
مزید برآں شعبہ ٹیلی کمیونی کیشن انجینئرنگ کی تدریسی اور انتظامی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ عامر صدیقی کو کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے، جو چیئرمین کی معاونت کریں گی۔
حکم نامہ کے مطابق یہ تمام احکامات وائس چانسلر کی منظوری سے جاری کیے گئے ہیں۔
یونیورسٹی حلقوں کے مطابق یہ اقدام ناصرف ادارے میں احتساب کے عمل کو مضبوط بنانے کی عکاسی کرتا ہے بلکہ کام کی جگہ پر محفوظ اور پیشہ ورانہ ماحول یقینی بنانے کی پالیسی کا تسلسل بھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔