بی بی سی کی ’آوازِ ہند‘ مارک ٹلی 90 برس کی عمر میں چل بسے
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
بی بی سی کے سینیئر اور نامور نامہ نگار مارک ٹلی اتوار کے روز نئی دہلی میں 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
مارک ٹلی برصغیر کے اہم تاریخی لمحات کی کوریج کے باعث لاکھوں ناظرین کے لیے بی بی سی کی ’آوازِ ہند‘ سمجھے جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کے بارے میں ڈاکومنٹری کی متنازع ایڈیٹنگ، بی بی سی کا ایک اور عہدیدار مستعفی
مارک ٹلی 1935 میں برطانوی دورِ حکومت کے تحت بھارت میں پیدا ہوئے تھے۔
انہوں نے بھارت کو ہی اپنا گھر اور اپنی صحافتی شناخت بنایا اور رفتہ رفتہ ملک کے سب سے معروف غیر ملکی نامہ نگاروں میں شمار ہونے لگے۔
Mark Tully was a giant among journalists and the greatest Indophile of his generation.
— William Dalrymple (@DalrympleWill) January 25, 2026
بھارتی وزیر کے مطابق کولکتہ میں پیدا ہونے والے مارک ٹلی نے خطے کی تاریخ کے کئی فیصلہ کن لمحات کی رپورٹنگ کی۔
بی بی سی نیوز کے عبوری سربراہ جوناتھن منرو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سر مارک نے اپنی رپورٹنگ کے ذریعے بھارت کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔
’۔۔۔اور ملک کی رنگا رنگی اور تنوع کو برطانیہ سمیت دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچایا۔‘
مزید پڑھیں: بی بی سی کے چیئرمین سمیر شاہ کے مبینہ بھارتی روابط پر سوالات، ایڈیٹوریل آزادگی پر خدشات
مارک ٹلی نے کیمبرج یونیورسٹی سے الٰہیات کی تعلیم حاصل کی اور کچھ عرصہ ایک مذہبی مدرسے سے وابستہ رہے۔
تاہم 1965 میں وہ دوبارہ بھارت لوٹ آئے اور نئی دہلی میں بی بی سی کے دفتر میں بطور منتظم شامل ہوئے۔
لندن میں بی بی سی کی ہندی اور ورلڈ سروس میں مختصر عرصہ کام کرنے کے بعد، 1971 میں انہیں نئی دہلی میں بی بی سی کا مستقل نامہ نگار مقرر کیا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت بی بی سی کولکتہ کیمبرج یونیورسٹی مارک ٹلی ہندی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت کولکتہ کیمبرج یونیورسٹی مارک ٹلی مارک ٹلی
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :