48 ملین جی میل صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز لیک ہو گئے
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سائبر سیکیورٹی نے تقریباً 48 ملین جی میل صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز سمیت مجموعی طور پر 149 ملین لاگ اِن کریڈنشلز لیک ہونے کا انکشاف کیا ہے۔
سائبر ریسرچر جیریمیا فاؤلر کے مطابق یہ ڈیٹا بیس نہ تو پاس ورڈ کے ذریعے محفوظ تھا اور نہ ہی انکرپٹڈ، اور اس میں تقریباً 96 جی بی خام کریڈنشل ڈیٹا موجود تھا، یہ لیک کسی نئی جی میل یا دیگر سروسز پر ہونے والی براہِ راست ہیکنگ کا نتیجہ نہیں بلکہ پچھلے کئی سالوں کے مختلف ڈیٹا لیکس اور انفوسٹیلر میلویئر کے ذریعے جمع کی گئی معلومات پر مشتمل ہے۔
ماہرین کے مطابق انفوسٹیلر میلویئر صارفین کی ذاتی ڈیوائسز کو متاثر کر کے یوزرنیم، پاس ورڈ اور دیگر حساس معلومات اکٹھا کر لیتا ہے، جسے بعد میں سائبر مجرموں کی جانب سے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس لیک ہونے والے ڈیٹا بیس میں جی میل کے ساتھ ساتھ یاہو، انسٹاگرام، نیٹ فلکس، فیس بک اور آؤٹ لک کے اکاؤنٹس کی معلومات بھی شامل ہیں، جبکہ سرکاری اداروں، بینکنگ سروسز اور دیگر سٹریمنگ پلیٹ فارمز کے لاگ اِن ڈیٹیلز بھی موجود تھیں۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس ڈیٹا بیس کو ہٹانے کے لیے ایک ماہ سے زائد عرصے کی کوششیں کی گئی ہیں، اور آخر کار اسے آف لائن کر دیا گیا۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نوعیت کا ڈیٹا کریڈنشل اسٹیفنگ حملوں میں انتہائی قیمتی ثابت ہوتا ہے، جہاں ایک ہی یوزر نیم اور پاس ورڈ کو مختلف سروسز پر آزمایا جاتا ہے تاکہ دیگر اکاؤنٹس تک غیر قانونی رسائی حاصل کی جا سکے۔
گوگل نے تصدیق کی ہے کہ یہ معاملہ ان کے علم میں ہے اور لیک ہونے والے ڈیٹا میں پچھلے انفوسٹیلر لاگز شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق خودکار نظام متاثرہ کریڈنشلز کی شناخت کر کے متعلقہ اکاؤنٹس کو لاک کر دیتا ہے اور صارفین کے پاس ورڈز ری سیٹ کروائے جاتے ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے پاس ورڈز تبدیل کریں، مختلف سروسز پر ایک ہی پاس ورڈ استعمال نہ کریں، دوہری تصدیق (2FA) فعال کریں اور پاس ورڈ مینیجر یا محفوظ پاس کیز استعمال کر کے اپنے اکاؤنٹس کی حفاظت یقینی بنائیں۔
یہ واقعہ سائبر سیکیورٹی کے لیے ایک انتباہ ہے کہ صارفین کو آن لائن تحفظ کے لیے جدید حفاظتی اقدامات اپنانے کی ضرورت ہے، اور ہر پلیٹ فارم پر علیحدہ اور مضبوط پاس ورڈز استعمال کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور پاس ورڈ پاس ورڈز جی میل کے لیے
پڑھیں:
ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا
نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔
ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔
فیچر کیسے کام کرتا ہے؟صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔
مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا
ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔
ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔
مختلف ڈسپلے موڈزنئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔
پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔
اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔
مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش
فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔
گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔
صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔
بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختمایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔
صارفین کا ردعملفیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔
تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ
ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر