نواب آف جونا گڑھ فیملی کیخلاف جھوٹی ویڈیو بنانے والا ملزم جسمانی ریمانڈ پر سائبر کرائم کے حوالے
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
کراچی:
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے نواب آف جونا گڑھ فیملی کیخلاف مبینہ جھوٹی ویڈیو بنانے کے مقدمے میں ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر سائبر کرائم ایجنسی کے حوالے کردیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت کے روبرو یوٹیوب پر کردار کشی اور نواب آف جونا گڑھ فیملی کیخلاف مبینہ جھوٹی ویڈیو بنانے کے مقدمے میں سائبر کرائم نے ملزم مدثر خان کو عدالت میں پیش کیا۔
تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزم اور اس کے ساتھیوں نے جھوٹ پر مبنی ویڈیو اپلوڈ کی۔ ویڈیو میں مدعیہ اور اس کے خاندان کی کردار کشی کی گئی۔ ملزم نے یوٹیوب چینل "The legends" سے ویڈیو اپلوڈ کی تھی۔
ملزم کو اسلام اباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اسلام آباد کی کورٹ سے راہداری ریمانڈ حاصل کر کے ملزم کو کراچی لایا گیا ہے، ملزم سے مزید تفتیش کرنا مقصود ہے۔
عدالت نے ملزم کا 28 جنوری تک جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیشرفت رپورٹ بھی طلب کر لی۔ ملزم کیخلاف جونا گڑھ کے سابق نواب کی بیٹی نے مقدمہ سائبر کرائم ایجنسی میں درج کروایا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جونا گڑھ
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک