کراچی کی مردم شماری میں 70 لاکھ افراد کا اضافہ ہماری جدوجہد کی کامیابی ہے، خالد مقبول صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
فکری نشست سے خطاب میں چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا کہ ایم کیو ایم کی مسلسل جدوجہد اور دباؤ کے نتیجے میں تاریخ میں پہلی بار دس سال مکمل ہونے سے قبل ہی مردم شماری کرائی گئی، جس میں کراچی کی آبادی میں 70 لاکھ نئے افراد کا اضافہ ریکارڈ ہوا ہے جو ہماری سیاسی و آئینی کامیابی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے شعبہ گریجویٹ فورم کے زیر اہتمام ڈی ایچ اے فیز 7 میں "محفوظ کراچی: مسائل اور حل" کے عنوان سے ایک پروقار فکری نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سینئر مرکزی رہنما نسرین جلیل، سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی سمیت ریٹائرڈ بیورو کریٹس، ٹیکنو کریٹس اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم کی مسلسل جدوجہد اور دباؤ کے نتیجے میں تاریخ میں پہلی بار دس سال مکمل ہونے سے قبل ہی مردم شماری کرائی گئی، جس میں کراچی کی آبادی میں 70 لاکھ نئے افراد کا اضافہ ریکارڈ ہوا ہے جو ہماری سیاسی و آئینی کامیابی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ کراچی کے مسائل کا حل ایک ایسے تیسرے درجے کی حکومت (Third Tier) میں ہے جہاں فارمولے کے تحت منتخب ضلعی نمائندے فنڈز اور اختیارات کے مالک ہوں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پی ایف سی (پروونشل فنانس کمیشن) کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کو اس کا جائز حصہ نہیں ملے گا، غربت اور ریونیو کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اس موقع پر سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے بھی شہر کی معاشی صورتحال اور انتظامی ڈھانچے پر تبادلہ خیال کیا۔ نشست میں شرکاء نے کراچی کے انفراسٹرکچر، بے روزگاری اور انتظامی پیچیدگیوں پر سیر حاصل گفتگو کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ کراچی کی ترقی کے بغیر پاکستان کی معیشت کا استحکام ممکن نہیں ہے۔ تقریب کے اختتام پر شہر کی شناخت اور بقاء کے لیے مشترکہ جدوجہد کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خالد مقبول صدیقی ایم کیو ایم کراچی کی ایم کی
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔