چیٹ جی پی ٹی ایلون مسک کے ’گروکی پیڈیا‘ سے استفادہ کرنے لگا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
چیٹ جی پی ٹی کے نئے ماڈل 5.2 میں مواد کی مستند حیثیت پر سوالات اٹھ گئے ہیں کیونکہ اس نے متعدد سوالات کے جوابات میں ایلون مسک کی اے آئی سے تیار کردہ انسائیکلوپیڈیا ’گروکی پیڈیا‘ کو بطور ماخذ استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی تعصب پر تحقیق: چیٹ جی پی ٹی آمرانہ خیالات اپنا سکتا ہے
برطانوی اخبار دی گارڈین کی جانب سے کیے گئے مختلف ٹیسٹس میں محققین نے انکشاف کیا کہ جی پی ٹی 5.
حساس نوعیت کے موضوعات، جیسے ایران کا سیاسی نظام اور تاریخی شخصیات کے بارے میں بھی چیٹ بوٹ نے ایلون مسک کی ملکیت والی اس اے آئی انسائیکلوپیڈیا کا حوالہ دیا۔
تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے بعض اہم اور متنازع موضوعات جیسے ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق جانبداری یا ایچ آئی وی وبا کے حوالے سے معلومات میں گروکی پیڈیا کو بطور ماخذ استعمال نہیں کیا۔ اس کے برعکس کم معروف یا نسبتاً غیر معروف موضوعات پر، جہاں معلومات کی جانچ کم ہوتی ہے، وہاں اس پر انحصار کیا گیا۔
وکی پیڈیا کے مقابلے میں گروکی پیڈیا کی لانچنگ کب شروع ہوئی؟گروکی پیڈیا ایک اے آئی سے تیار کردہ انسائیکلوپیڈیا ہے جسے اکتوبر میں لانچ کیا گیا اور اس کا مقصد وکی پیڈیا کا مقابلہ کرنا ہے۔
مزید پڑھیے: چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ متعارف، گوگل سے کتنا مختلف؟
ماضی میں ناقدین وکی پیڈیا پر مختلف سماجی اور سیاسی معاملات میں دائیں بازو کے بیانیے کو فروغ دینے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
وکی پیڈیا کے برعکس گروکی پیڈیا میں انسانی تدوین شامل نہیں بلکہ اس کا تمام مواد مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: ایکس اے آئی نے وکی پیڈیا کے مقابلے میں گروکی پیڈیا لانچ کردیا
دلچسپ بات یہ ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے علاوہ اینتھروپک کا اے آئی چیٹ بوٹ کلاڈ بھی تیل کی پیداوار سے لے کر اسکاٹش بیئرز تک کے موضوعات پر گروکی پیڈیا سے معلومات لیتا پایا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چیٹ جی پی ٹی گروکی پیڈیا گروکی پیڈیا سے استفادہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی گروکی پیڈیا چیٹ جی پی ٹی اے ا ئی
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔