کراچی میں سال کا پہلا ریبیز کا کیس رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
کراچی میں رواں سال ریبیز کا پہلا کیس رپورٹ ہو گیا ہے جو ضلع سانگھڑ سے تعلق رکھنے والی بچی میں سامنے آیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق شہر جھول سے تعلق رکھنے والی 8 سالہ بچی میں ریبیز کی تشخیص ہوئی ہے۔ سانگھڑ سے تعلق رکھنے والی بچی کو آوارہ کتے کے کاٹنے کے ڈیڑھ ماہ بعد ریبیز کی شدید علامات ظاہر ہوئیں جس کے بعد اسے کورنگی مین انڈس اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ریبیز پریوینشن کلینک کے مینجر آفتاب گوہر کا کہنا ہے کہ بچی کو متعدد سرکاری اسپتالوں میں ناکافی علاج فراہم کیا گیا جس کے بعد اسے انڈس اسپتال منتقل کیا گیا۔
آفتاب گوہر کے مطابق ابتدائی علاج کے دوران بچی کے زخم کو دھویا ہی نہیں گیا، جو ریبیز سے بچاؤ میں انتہائی اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بچی میں پانی اور ہوا سے خوف جیسی واضح علامات سامنے آ چکی ہیں جو ریبیز کے ایڈوانس اسٹیج کی نشاندہی کرتی ہیں۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق رواں سال انڈس اسپتال میں اب تک 1500 جبکہ جناح اسپتال میں 800 سگ گزیدگی کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
سول اسپتال میں رواں سال 400 سے زائد سگ گزیدگی کے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کراچی کے دو بڑے اسپتالوں میں ریبیز کے باعث 20 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
طبی ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سگ گزیدگی کی صورت میں فوری طور پر زخم کو صابن اور پانی سے دھو کر قریبی اسپتال سے مکمل ویکسینیشن کروائی جائے، کیونکہ علامات ظاہر ہونے کے بعد یہ سو فیصد جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقےنشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق
اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگاسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیلمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے