پشاور ہائیکورٹ کے نئے مستقل چھ ججز نے حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
حلف اٹھانے والوں میں جسٹس طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض شامل تھے۔ جسٹس صلاح الدین, جسٹس صادق علی نے بھی حلف اٹھایا جبکہ جسٹس سید مدثر امیر اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ سے بھی حلف لیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور ہائیکورٹ کے نئے مستقل چھ ججز نے حلف اٹھا لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ ججز سے حلف لیا گیا۔ حلف اٹھانے والوں میں جسٹس طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض شامل تھے۔ جسٹس صلاح الدین, جسٹس صادق علی نے بھی حلف اٹھایا جبکہ جسٹس سید مدثر امیر اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ سے بھی حلف لیا گیا۔ حلف برداری تقریب کورٹ روم نمبر 1 میں منعقد ہوئی۔ حلف برداری تقریب میں سینئر پیونی جج جسٹس اعجاز انور، جسٹس سید ارشد علی، جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور دیگر ججز نے شرکت کی۔ تقریب میں رجسٹرار ہائیکورٹ، ایڈوکیٹ جنرل، ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ہائیکورٹ سٹاف اور وکلاء کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھی حلف
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔