وزیراعظم کا جیم اسٹون انڈسٹری کے فروغ کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں قیمتی پتھروں اور معدنیات کے فروغ کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں جیم اسٹونز کے ذخائر کی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ ان قیمتی پتھروں کی برآمدات سے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: گرین انرجی کے لیے استعمال ہونے والی معدنیات پاکستان میں وافر ہیں، ڈاکٹر گوہر رحمان
وزیراعظم نے اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں مجوزہ جیم اسٹون سینٹرز کی تعمیر کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اسلام آباد جیم اسٹون سینٹر کو اگست 2027 تک مکمل کرنے اور اس میں جدید ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈیشن سروسز، سرٹیفیکیشن، انکیوبیشن سینٹر اور ٹریڈ سینٹر کی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات دیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت قیمتی پتھروں اور معدنیات کے فروغ کے حوالے سے اجلاس
پاکستان میں جیم اسٹونز کے ذخائر کی استعداد کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے تاکہ ان قیمتی پتھروں کی برآمدات سے قیمتی زرمبادلہ کمایا جا سکے : وزیراعظم @KulAalam #StoneByStone @alihamzaisb pic.
— Media Talk (@mediatalk922) January 26, 2026
اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتیں جیم اسٹون انڈسٹری کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں۔ اجلاس میں جیم اسٹون انڈسٹری کے فروغ، نئی منظور شدہ پالیسی پر عملدرآمد اور اسٹیک ہولڈرز کے اعتماد کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
مزید پڑھیں: وہ ہالی ووڈ اسٹارز جو بڑی عمر میں شہرت کی بلندی پر پہنچے
جیو فینسنگ سائینٹفک روڈ میپ پر کام کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جیم اسٹون انڈسٹری وزیراعظم محمد شہباز شریف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جیم اسٹون انڈسٹری وزیراعظم محمد شہباز شریف جیم اسٹون انڈسٹری قیمتی پتھروں کے فروغ کے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،