حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک مختصر سی ویڈیو نے غیر معمولی توجہ حاصل کرلی ہے، جس میں ایک پینگوئن اپنی کالونی سے الگ ہو کر برف سے ڈھکے پہاڑوں کی سمت بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ 

اس منظر کو 2026 کے وائرل ترین کلپس میں شمار کیا جانے لگا اور صارفین نے اسے ’’نہلسٹ پینگوئن‘‘ کا نام دیا ہے۔ کسی نے اسے خاموش بغاوت کی علامت قرار دیا، کسی نے ذہنی تھکن اور سماجی دباؤ سے فرار کا استعارہ بنایا، جبکہ کئی افراد نے اپنی ذاتی زندگیوں کے احساسات اس پینگوئن سے جوڑ دیے۔

اسی وقت یہ سوال اٹھا کہ آیا واقعی یہ پینگوئن کسی غیر معمولی انجام کی طرف بڑھ رہا تھا یا یہ سب انسانوں کی اپنی تشریحات تھیں؟

تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو کسی حالیہ وائلڈ لائف فوٹیج کا حصہ نہیں بلکہ 2007 میں ریلیز ہونے والی ڈاکیومنٹری Encounters at the End of the World سے لی گئی ہے، جسے معروف جرمن فلم ساز ورنر ہرزوگ نے بنایا تھا۔ یہ فلم انٹارکٹکا میں موجود انسانوں، سائنس دانوں اور وہاں کے جانوروں کی زندگی پر مبنی ہے۔

فلم کے آخری حصے میں ایک منظر دکھایا جاتا ہے جس میں ایک ایڈیلی پینگوئن اچانک سمندر کی طرف جانے کے بجائے رخ موڑ کر برفانی اندرونی علاقوں کی جانب چل پڑتا ہے۔ اسی موقع پر ہرزوگ تبصرہ کرتے ہیں کہ یہ سفر غالباً موت پر منتج ہوگا، اور انہوں نے اسے ’’موت کی جانب مارچ‘‘ کہا تھا۔

تقریباً 19 برس بعد یہی منظر دوبارہ سامنے آیا اور ڈیجیٹل دنیا میں جذباتی ردعمل کی لہر دوڑ گئی۔ اکانومک ٹائمز سمیت کئی رپورٹس کے مطابق اس ویڈیو کی مقبولیت کی اصل وجہ اس کا حیاتیاتی پہلو نہیں بلکہ وہ جذبات تھے جو ناظرین نے اس میں تلاش کرلیے۔

آج کے دور میں ذہنی دباؤ، غیر یقینی مستقبل اور سماجی توقعات سے گھِرے لوگوں کو ایک پینگوئن کا خاموشی سے سب کچھ چھوڑ کر چل پڑنا اپنی کہانی محسوس ہونے لگا۔ پینگوئن کچھ کہہ نہیں رہا تھا، مگر صارفین اپنی خاموشیاں اور تھکن اس پر ڈال رہے تھے، اور یوں یہ منظر ایک علامت بن گیا۔

سائنسی زاویے سے دیکھا جائے تو ماہرین کہتے ہیں کہ اس رویے میں کوئی فلسفیانہ سوچ شامل نہیں تھی۔ پینگوئن کا اس طرح کالونی سے الگ ہو جانا اگرچہ نایاب ہے مگر ناممکن نہیں۔ اس کی وجوہات میں راستہ بھول جانا، بیماری، جسمانی کمزوری یا ماحول سے متعلق الجھن شامل ہوسکتی ہے۔

ڈاکومنٹری میں شامل پینگوئن کے ماہر ڈاکٹر ڈیوڈ اینلے نے بتایا تھا کہ اگر ایسے جانور کو واپس کالونی کی طرف موڑا بھی جائے تو وہ بعض اوقات دوبارہ اسی سمت چل پڑتا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ شعوری فیصلہ نہیں بلکہ فطری یا حیاتیاتی خرابی کا نتیجہ ہوتا ہے۔

کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ یہ پینگوئن تقریباً ستر کلومیٹر اندرونِ انٹارکٹکا تک گیا اور پھر مر گیا، تاہم یہ فاصلہ کسی باقاعدہ سائنسی پیمائش پر مبنی نہیں بلکہ ہرزوگ کے تبصرے اور بعد کی تشریحات سے اخذ کیا گیا اندازہ ہے۔ البتہ یہ بات طے شدہ ہے کہ انٹارکٹکا کے اندرونی حصوں میں جہاں نہ خوراک دستیاب ہو اور نہ ہی کالونی، وہاں جانا تقریباً یقینی موت کے مترادف سمجھا جاتا ہے، اسی لیے فلم میں اسے ’’موت کی جانب مارچ‘‘ کہا گیا تھا۔

وقت کے ساتھ ساتھ یہ کلپ محض ایک فطری واقعہ نہیں رہا بلکہ انسانی مایوسی اور تنہائی کی علامت بن گیا۔ وکی پیڈیا بھی اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ اس منظر کو علامتی معنی دینا بعد میں سوشل میڈیا پر ہونے والی تشریحات کا نتیجہ ہے، نہ کہ فلم ساز کا اصل مقصد۔ معاملہ یہاں تک پہنچا کہ وائٹ ہاؤس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے بھی اس ویڈیو کو شیئر کیا، مصنوعی تصاویر بنیں، سیاسی حوالوں میں استعمال ہوا اور میمز کی بھرمار ہوگئی، حالانکہ سائنسی طور پر اس سب کی کوئی بنیاد نہیں تھی۔

اس کہانی کے پس منظر میں موجود شخصیت ورنر ہرزوگ ہیں، جن کا فلمی انداز ہمیشہ سے انسان کی تنہائی، جنون اور فطرت کے سامنے بے بسی جیسے موضوعات کے گرد گھومتا رہا ہے۔ 5 ستمبر 1942 کو جرمنی کے شہر میونخ میں پیدا ہونے والے ہرزوگ کی پرورش جنگِ عظیم دوم کے بعد کے دیہی باویریا میں ہوئی، جہاں غربت اور تنہائی عام تھی۔ ان کا بچپن بجلی اور فون جیسی سہولتوں سے محروم گزرا، وہ طویل فاصلے پیدل چل کر اسکول جاتے اور زیادہ تر وقت اکیلے رہتے تھے۔ بعد میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہی تنہائی اور فطرت کے قریب زندگی ان کی سوچ کو شکل دینے میں اہم رہی۔

19 برس کی عمر میں انہوں نے اپنی پہلی فلم بنانے کے لیے کیمرہ حاصل کیا اور پھر 60 اور 70 کی دہائی میں جرمن سنیما کی نئی تحریک کا حصہ بنے، مگر روایتی کہانیوں اور ہالی ووڈ کے ڈھانچے کو کبھی مکمل طور پر قبول نہ کیا۔ ہرزوگ کا کہنا ہے کہ محض حقائق ہی مکمل سچ نہیں ہوتے بلکہ وہ جسے ’’وجدانی سچ‘‘ کہتے ہیں، یعنی انسانی احساس اور تجربے سے جنم لینے والی حقیقت، ان کی فلموں کی بنیاد بنتی ہے۔

2007 میں انٹارکٹکا جا کر بنائی گئی ڈاکومنٹری میں بھی انہوں نے واضح کیا تھا کہ یہ فلم صرف جانوروں کے بارے میں نہیں بلکہ وہاں موجود انسانوں، سائنس دانوں اور وجودی سوالات کے گرد گھومتی ہے۔ فلم کے اختتام پر دکھایا جانے والا پینگوئن بھی ان کے نزدیک کوئی علامت یا ہیرو نہیں بلکہ غالباً راستہ بھٹک جانے والا جانور تھا۔

یوں حقیقت یہ ہے کہ جس پینگوئن کو آج سوشل میڈیا پر ’’نہلسٹ‘‘ کہا جا رہا ہے، وہ ایک پرانی فلمی جھلک کا کردار تھا جس کے رویے کی سائنسی توجیہ موجود ہے۔ مگر دو دہائیوں بعد ڈیجیٹل دنیا نے اس میں وہ معنی تلاش کر لیے جو شاید اس پینگوئن کے بجائے خود انسانوں کے دل و دماغ کی کیفیت کی عکاسی کرتے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا نہیں بلکہ انہوں نے کی طرف

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل