زیادہ فائبر کھانے سے نہ صرف جسمانی صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ دماغی صحت اور عمر بھی بہتر رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گوشت کے بغیر پروٹین کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟

بی بی سی کے مطابق فائبر سے بھرپور غذا جیسے کہ مکمل اناج، پھل، دالیں، گری دار میوے اور بیج، ہمارے جسم اور دماغ دونوں کے لیے بہت فوائد رکھتی ہے۔

تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ فائبر ہماری آنتوں میں موجود بیکٹیریا (مائیکرو بایوم) کو طاقتور بناتا ہے اور آنت و دماغ کے تعلق کو بہتر کرتا ہے جس سے علمی زوال کے اثرات سست پڑتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ابردین کی پروفیسر کارن اسکاٹ کہتی ہیں کہ دماغی صحت کے لیے فائبر کی مقدار بڑھانا سب سے مؤثر غذائی تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔

مثال کے طور پر امریکا میں مردوں کا 97 فیصد اور خواتین کا 90 فیصد جبکہ برطانیہ میں بالغوں کا 90 فیصد اپنی روزانہ کی فائبر کی ضرورت پوری نہیں کرتا۔

فائبر ہضم نہیں ہوتا اور آنت سے گزر کر فائدہ مند بیکٹیریا کے لیے توانائی پیدا کرتا ہے۔

مزید پڑھیے: صحت کیلئے مفید فائبر سے بھرپور غذائیں کونسی ہیں؟

یونیورسٹی آف ڈنڈی میں تجرباتی معدے اور آنتوں کے شعبے کے سابق پروفیسر جان کمِنگز کے مطابق روزانہ تقریباً 30 گرام فائبر کا استعمال، دل کی بیماری، اسٹروک، ٹائپ 2 ذیابیطس اور کولون کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے اور اموات کی شرح میں 15-30 فیصد کمی لاتا ہے۔

دماغی صحت کے لیے بھی فائبر انتہائی اہم ہے۔

فائبر بیکٹیریا کی پیداوار سے بیوٹریٹ نامی چکنائی کی مقدار بڑھاتا ہے جو آنت کی حفاظتی پرت کو مضبوط کر کے نقصان دہ مادے خون میں جانے سے روکتا ہے اور دماغی فعالیت کو بہتر بناتا ہے۔

سنہ 2022 میں 3,700 بالغ افراد پر کی گئی تحقیق میں زیادہ فائبر کھانے والوں میں ڈیمینشیا کا خطرہ کم پایا گیا۔

مزید برآں جڑواں افراد پر کیے گئے ایک مطالعے میں بھی فائبر کے روزانہ استعمال سے 3 ماہ میں علمی ٹیسٹ کے نتائج بہتر آئے۔

فائبر کی مختلف اقسام کو ہر کھانے اور ناشتے میں شامل کرنا مفید ہے۔

مزید پڑھیں: عمر کے مختلف مراحل میں غذائی اجزا کی اہمیت: کس عمر میں کون سی خوراک مفید ہے

مثال کے طور پر آلو کے چھلکے کے ساتھ بیکڈ بینز اور بعد میں سیب کھانے سے تقریباً 15.

7 گرام فائبر حاصل ہوتا ہے۔ گری دار میوے اور بیج بھی مقدار بڑھانے میں مددگار ہیں۔

فائبر نہ صرف دماغی صحت بلکہ بہتر نیند، ڈپریشن میں کمی اور عمومی فلاح و بہبود میں بھی معاون ہے۔

پروفیسر اسکاٹ کی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ الزائمر کے مریضوں میں فائدہ مند بیوٹریٹ پیدا کرنے والے بیکٹیریا کی کمی ہوتی ہے جس سے دماغی صحت متاثر ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فائبر کا زیادہ استعمال ہماری آنتوں کے مائیکرو بایوم کو متنوع بناتا ہے اور متوازن غذا کے ذریعے اسے بڑھانا آسان ہے۔

دالیں، سبزیاں، پھل، مکمل اناج اور گری دار میوے روزانہ کی غذا میں شامل کرنے سے فائبر کی مقدار بڑھائی جا سکتی ہے۔

فائبر سپلیمنٹس بھی مفید ہیں خاص طور پر ان افراد کے لیے جو چبانے یا نگلنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: جسم کو قدرتی طور پر ڈیٹاکس کرنے میں کیسے مدد دی جائے؟

کارن اسکاٹ کے مطابق فائبر کی مقدار بڑھانا دراصل صحت کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند اقدام ہے جو کوئی شخص کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

فائبر فائبر دماغ کے لیے مفید فائبر کا استعمال

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: فائبر فائبر دماغ کے لیے مفید فائبر کا استعمال فائبر کی کی مقدار فائبر کا کے لیے ہے اور

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ