دماغ کے لیے ایسی تباہ کن عادات جو بیشتر افراد اپنا لیتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
عمر کے ساتھ ہر انسان کے دماغ میں فطری تبدیلیاں آتی ہیں اور ذہنی صلاحیتیں بھی بتدریج متاثر ہونے لگتی ہیں۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، دماغی افعال کی رفتار سست پڑ جاتی ہے اور بعض دماغی حصے سکڑنے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں بڑھاپے میں الزائمر اور ڈیمینشیا جیسے امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق کچھ روزمرہ عادات دماغی عمر کو تیزی سے بڑھا دیتی ہیں، جس سے ذہنی تنزلی کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ حیران کن طور پر یہ عادات عام ہیں اور اکثر لوگ انہیں نقصان دہ نہیں سمجھتے۔
دل کی صحت کو نظرانداز کرنا
دل اور دماغ کی صحت آپس میں گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اگر دل صحت مند ہو تو دماغ کو مناسب خون کی فراہمی برقرار رہتی ہے، لیکن دل کے مسائل، خاص طور پر ہائی بلڈ پریشر، ڈیمینشیا کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
زیادہ دیر بیٹھے رہنا
طویل وقت تک بیٹھے رہنے سے دماغ کے اُس حصے میں تبدیلیاں آتی ہیں جو یادداشت کے لیے نہایت اہم ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مسلسل بیٹھنے سے یادداشت سے وابستہ دماغی حصہ، جسے میڈیل ٹیمپورل لوب کہا جاتا ہے، پتلا ہونے لگتا ہے۔ اس لیے جسمانی سرگرمی کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
ورزش سے دوری
زیادہ بیٹھنے کے نقصانات صرف وقفے وقفے سے چلنے پھرنے سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔ دماغی صحت کے تحفظ کے لیے باقاعدہ ورزش ضروری ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ہفتے میں چار بار 30 منٹ کی تیز چہل قدمی چند ماہ میں دماغی افعال کو بہتر بنا سکتی ہے۔ ورزش سے دماغی خلیات کی نشوونما ہوتی ہے اور یادداشت مضبوط ہوتی ہے۔
مطالعہ نہ کرنا
جرنل نیورولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق باقاعدہ مطالعہ دماغی تنزلی کے عمل کو سست یا حتیٰ کہ ریورس بھی کر سکتا ہے۔ امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ مطالعہ، ذہنی کھیل اور تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے ذہنی عمر میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
دماغی ورزش کی کمی
کسی نئی مہارت، زبان یا مضمون کو سیکھنا دماغ کے کئی خلیات کو متحرک کرتا ہے۔ نیا مشغلہ اپنانا، جیسے کوئی ساز بجانا، درمیانی عمر میں ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جتنا مشکل کام ہوگا، دماغ کے لیے اتنا ہی فائدہ مند ہوگا۔
تمباکو نوشی
تمباکو میں موجود کیمیکلز دماغ کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سگریٹ نوشی ذہنی تنزلی اور ڈیمینشیا کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔
سماجی میل جول سے دوری
دوستوں اور رشتہ داروں سے میل جول ذہنی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔ تحقیق کے مطابق سماجی روابط دماغی افعال میں تنزلی کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کر دیتے ہیں، جبکہ تنہائی ذہنی عمر کو تیزی سے بڑھا دیتی ہے۔
نیند کی کمی
مناسب نیند نہ لینے سے توجہ مرکوز کرنا اور یادداشت برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اچھی دماغی صحت کے لیے روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی نیند نہایت ضروری ہے۔
غذا کا خیال نہ رکھنا
چکنائی اور میٹھے سے بھرپور غذا دماغی افعال کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جبکہ پھل، سبزیاں، دالیں، مچھلی اور زیتون کا تیل دماغ کے لیے مفید غذائیں ہیں۔ اس کے علاوہ روزانہ ایک کپ چائے یا کافی بھی دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دماغی افعال دماغ کے لیے کے مطابق ضروری ہے صحت کے
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔