بالی ووڈ اسٹار ہریتک روشن حال ہی میں فلم ساز گولڈی بہل کی سالگرہ کی تقریب میں بیساکھیوں کے سہارے نظر آئے، جس کے بعد مداحوں میں تشویش پھیل گئی۔

ہریتک روشن کی بیساکھیوں کے سہارے چلنے کی ویڈیو فوراً سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ اور اداکار کی صحت سے متعلق چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔

تاہم ہریتک روشن نے اب سوشل میڈیا پر وضاحت کرتے ہوئے نہ صرف اپنی صحت سے متعلق بتایا بلکہ اپنے مخصوص مزاحیہ انداز سے سب کو ہنسا بھی دیا۔

        View this post on Instagram                      

ہریتک نے انسٹاگرام پر تصاویر کے ساتھ ایک طویل نوٹ شیئر کیا جس کا عنوان انہوں نے ’’STATUTORY WARNING‘‘ رکھا۔ انہوں نے مذاقاً لکھا کہ ان کے جسم کے ہر حصے کے ساتھ جیسے ایک الگ ہی ON/OFF بٹن لگا ہوا ہے۔

اداکار کے مطابق ان کا بایاں گھٹنا اچانک ہی ’’چھٹی پر چلا گیا‘‘ اور اسی وجہ سے انہیں بیساکھیوں کا سہارا لینا پڑا۔ انہوں نے لکھا ’’ہم سب ایسے جسم میں رہتے ہیں جس کے بارے میں ہم مکمل طور پر کبھی نہیں جان سکتے کہ وہ کیسے کام کرتا ہے۔ میرا جسم مگر ایک دلچسپ نمونہ ہے۔ اس کے ہر حصے کا اپنا ON/OFF بٹن ہے۔‘‘

        View this post on Instagram                      

ہریتک نے مزید کہا کہ ان کی بائیں ٹانگ، بایاں کندھا اور دایاں ٹخنہ اکثر اچانک جواب دے جاتے ہیں اور یہ صورتحال انہیں عجیب و غریب تجربات سے گزارتی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ایسی کیفیات نے ان کے ذہن کو منفرد راستے سکھا دیے ہیں اور وہ خود کو ایک خاص ’’نیورون سسٹم‘‘ کا مالک سمجھتے ہیں۔

اداکار نے فلم کے سیٹ سے ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا جہاں بعض اوقات ان کی زبان کسی لفظ کا ساتھ نہیں دیتی۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت کے سنجیدہ منظر میں انہیں ’’ڈنر‘‘ کہنا ہوتا ہے لیکن زبان اچانک وہ لفظ بولنے سے انکار کر دیتی ہے، جس سے ہدایت کار اور ٹیم حیران رہ جاتی ہے۔

ہریتک نے شوخی سے یہ بھی بتایا کہ کس طرح وہ غلطی پر غلطی کرتے رہے، چہرے کے تاثرات بدلتے رہے، ناک پر سلمان خان اسٹائل میں ہاتھ مارتے رہے اور آخرکار خود ہی بے قابو ہنسی میں مبتلا ہوگئے۔ ان کے اسسٹنٹس بھی صحیح لفظ یاد دلانے کے لیے کان میں سرگوشیاں کرتے رہے، یہاں تک کہ آخر میں انہوں نے ’’ڈنر‘‘ کے بجائے ’’لنچ‘‘ کہہ کر شاٹ مکمل کیا۔

اپنے مخصوص انداز میں ہریتک روشن نے ایک سنجیدہ صحت کے مسئلے کو بھی ہنسی اور صبر کا سبق بنادیا، جس پر مداحوں کی جانب سے خوب ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

ہریتک روشن کو حال ہی میں فلم ’’وار 2‘‘ میں دکھائی دیئے، جو باکس آفس پر زیادہ کامیاب ثابت نہ ہوسکی۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہریتک روشن انہوں نے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا