ترجمانوں کا کہناہے سانحۂ گل پلازہ پر بات نہ کی جائے،گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
لواحقین کی مدد کرنا حکومت کا فرض ، چکر نہ لگوائیں، کاؤنٹر بنا کر ان کی مدد کی جائے
47 سال پہلے والی لیز نکال لی یہ پتہ نہیںچل رہا کہ آگ کیسے لگی، کامران ٹیسوری
گورنر سندھ کامران ٹیسوری سانحۂ گل پلازہ کے شہید آفتاب کے گھر تعزیت کے لیے پہنچ گئے، جہاں انہوں نے شہید کے ورثاء سے اظہارِ تعزیت کیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لواحقین کی مدد کرنا حکومت کا فرض ہے، لواحقین کو چکر نہ لگوائیں، کاؤنٹر بنا کر ان کی مدد کی جائے۔گورنر سندھ نے کہا کہ سیاست کرنا ہے تو ہم تیار ہیں لیکن پہلے 88 لاشوں کا جواب دیا جائے، کچھ بولتا ہوں تو ترجمانوں کا بیان آجاتا ہے، کہا جا رہا ہے کہ سانحۂ گل پلازہ پر بات نہ کی جائے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ سانحۂ گل پلازہ نے اس شہر کے رہنے والے لوگوں کے دل دہلا دیے ہیں، جو کچھ وہاں ہوا اس پر سیاست نہیں کر رہے، لیکن یہ کون سی بات ہے کہ بات نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ مٹی ڈالو دوسرے سانحے کا انتظار کرو، 47 سال پہلے والی لیز نکال لی لیکن یہ نہیں پتہ چل رہا کہ آگ کیسے لگی، اس شہر میں رہنے والے کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ میں مقدمہ عوام میں لے کر آؤں گا، ٹیکس کے پیسوں سے پیسے دے رہے ہو، کون سا اپنی جیب سے دے رہے ہو، سانحۂ گل پلازہ میں جو شہید ہوا اس کے بچوں کی تعلیم کی ذمے داری لیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آگ کیوں نہیں بجھی؟ کون کب پہنچا؟ ریسکیو آپریشن کب شروع ہوا؟گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کون اس کوتاہی کا ذمے دار ہے؟ بس یہ دیکھنا ہے، جتنے لواحقین ہیں ان کے گھر جاؤں گا، میرے پاس سوٹ کیسز ہیں جن میں ثبوت ہیں، ڈیتھ سرٹیفکیٹ نہیں بن رہا، گھر کا چولہا نہیں جل رہا۔انہوں نے کہا کہ آئیں اپنی جیب سے پیسے دینے کا اعلان کریں، میرے ملک کا حصہ لاہور ہے، وہاں انتظامیہ پرفارم کر رہی ہے، یہاں کچھ ہو ہی نہیں رہا ہے، آپ مشورہ کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ گل پلازہ کی جائے کی مدد
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔