آن لائن ویزا کی سہولت کے بعد غیر ملکی سیاح و کوہ پیما پاکستان آنے کیلیے بے تاب ہیں، صدر الپائن کلب
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل (ر)عرفان ارشد خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں پائے جانے والے بلند ترین پہاڑی سلسلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملک اور قوم کے لئے تحفہ ہیں، ملک میں کوہ پیمائی کا مستقبل انتہائی روشن اور وسیع امکانات کا حامل ہے۔
ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز پاکستان اسپورٹس کمپلیکس میں الپائن کلب آف پاکستان کے سیکرٹریٹ میں نمائندہ ایکسپریس سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
میجر جنرل (ر) عرفان ارشد خان کا کہنا تھا کہ کوہ پیمائی ایک جان لیوا کھیل ہے لیکن اس میں پاکستانی بہادر کوہ پیماء اپنی مثال آپ ہیں، ہمارے بہادر کوہ پیماؤں نے کئی عالمی اعزازت ملک اور قوم کے نام کیے ہمیں ان عظیم کوہ پیماؤں پر فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی اور غیر ملکی کوہ پیماؤں کو جدید انفراسٹرکچر، تربیت یافتہ افرادی قوت، اور جدید ریسکیو نظام میں سرمایہ کاری کو بہتر بنایا جائے گا۔ اس بارے فرانس اٹلی اور دیگر ممالک کے ساتھ معاہدے کیے جائیں گے۔
الپائن کلب کے سربراہ نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے بلند پہاڑوں (بشمول کے ٹو) کی وجہ سے غیر ملکی سیاحوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے، جبکہ آن لائن ویزا اور بہتر سیکیورٹی سے اس میں مزید اضافہ ممکن ہے، اس سے ملکی معشیت کو بہتر انداز سے چلایا جاسکتا ہے حکومتی اداروں کے ساتھ مشاورت سے ایک مضبوط پلان تیار کیا جائے گا تاکہ غیر ملکی سیاحوں کی دلچسپی کو موثر بنایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دنیا کی بلند ترین چوٹیاں موجود ہیں، جس کی وجہ سے غیر ملکی کوہ پیما یہاں آنے کے لیے بے تاب ہیں، آن لائن ویزا اور سیکیورٹی کی سہولت اور ملک میں امن و امان کی بہتر صورتحال نے کوہ پیمائی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ملک میں امن وامان کی صورت حال بہتر ہوگئی ہے، پاکستانی پوٹرز بہادری کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں نیپالی پوٹرز شر پا ٹیکٹکلی مضبوط ہیں، اس بارے میں پوٹرز کی تربیت اور کوچنگ کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ سیاحوں کے لیے بہتر راستوں، تربیت یافتہ پورٹرز اور گائیڈز کی ٹریننگ سے سیاحت کو منظم کیا جا سکے گا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ریسکیو نظام میں جدت لارہے ہیں، حادثات کی صورت میں فوری امداد کے لیے جدید ریسکیو نظام (جیسے ہیلی کاپٹر ریسکیو) کو بہتر بنانے کے لیے غیر ملکی کمپنی سے جلد معاہدہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کاہ کہ ذاتی اثر و رسوخ کا استعمال کیا جاتا ہے، نئے معاہدہ سے ملکی اور غیر ملکی کوہ پیماوں کو ریسکیو کیا جاسکے گا، مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کوہ پیماؤں کی تعداد میں کو بڑھایاجارہا ہے جو اس شعبے میں ایک مثبت رجحان ہے تاہم، اس شعبے کو مزید فروغ دینے کے لیے گراس روٹ لیول پر کوہ پیمائی کا شعور اجاگر کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے اور شمالی علاقہ جات میں عالمی معیار کی سہولیات موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کوہ پیمائی کوہ پیماؤں نے کہا کہ غیر ملکی کے لیے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔