شرح سود برقرار: گورنرسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
شہرِ قائد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمیل احمد کا کہنا تھا کہ شرح سود 2ماہ کیلئے برقرار رکھی گئی ہے، ایکسپورٹ میں سود اس سال 6فیصد کم ہونے کا چانس ہے جب کہ مہنگائی کی شرح7.4فیصد پربرقرارہے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ ایگری کلچرکی گروتھ اِس سال بہتر رہے گی، ملکی برآمدات میں کمی واقع ہوئی مگر ترسیلات زر کے نمبرز میں بہتری آئی ہے، سال 2026 میں ملکی افراط زر کی شرح 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہے گی۔ گورنرسٹیٹ کا کہنا تھا کہ افراط زر کی شرح رواں سال کچھ مہینوں میں 7 فیصد سے زیادہ بھی رہ سکتی ہے، ملکی درآمدات بڑھنے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صفر سے 1 فیصد کے درمیان رہے گا ، رواں سال ملکی درآمدات 8 فیصد بڑھ سکتی ہیں اور برآمدات 6 فیصد کم ہوسکتی ہیں ۔ محمد جمیل نے کہا کہ بڑی صنعتوں کی ترقی گزشتہ آٹھ ماہ سے بہتر ہوکر 10 فیصد سے اوپر جاچکی ہے، فصلوں کی بہتر پیداوار اور سیلاب کی محدود تباہ کاریوں سے زرعی نمو رواں سال بہتر رہے گی، ملکی جی ڈی پی گروتھ رواں سال 3.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز