سانحہ گل پلازا، اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کا سندھ اسمبلی نہ چلنے دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی نے کہا کہ اسمبلی میں سانحہ گل پلازہ پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، 10 دن گزر گئے لیکن سوالات کے جوابات نہیں مل رہے، صوبائی حکومت کی تحقیقاتی کمیٹی مسترد کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے سانحہ گل پلازا پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل تک صوبائی اسمبلی نہ چلنے دینے کا اعلان کردیا۔ سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں علی خورشیدی نے کہا کہ اسمبلی میں سانحہ گل پلازہ پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 دن گزر گئے لیکن سوالات کے جوابات نہیں مل رہے، صوبائی حکومت کی تحقیقاتی کمیٹی مسترد کرتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی نے مزید کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے مطالبے پر عوام ہمارا ساتھ دیں، جب تک سانحہ گل پلازا پر جوڈیشل کمیشن نہیں بنے گا اسمبلی نہیں چلنے دیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ سب اچھا ہے کی پالیسی پر اسمبلی نہیں چلے گی، کھلم کھلا بول رہے ہیں اجلاس نہیں چلنے دیں گے۔ علی خورشیدی نے یہ بھی کہا کہ 10 دن ہوگئے لیکن لاشیں نہیں ملیں، ہم کہتے ہیں جو ذمے دار ہے، اسے سزا دی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سندھ اسمبلی علی خورشیدی سانحہ گل کہا کہ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔