وادی کشمیر میں برف باری سے خشک سالی کا خطرہ ختم ہوگیا، عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
وزیراعلٰی نے کہا کہ برف باری کیوجہ سے تھوڑی سی تکلیف ہوئی تھی، لیکن اسے جلد ہی حل کرلیا جائیگا، ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیئے کہ صحیح وقت پر برف باری ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بروقت برف باری نے طویل خشک موسم کے بعد راحت دینے کا کام کیا ہے اور اس سے آنے والے موسم گرما کے مہینوں میں پانی کی قلت نہیں ہونے کی امید ہے۔ سرینگر سے جموں تک سڑک کے ذریعے سفر کے دوران بانہال میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے جموں سرینگر قومی شاہراہ (NH-44) کی حالت کا معائنہ کیا اور بانہال کے مقامی ایم ایل اے سے بھی بات چیت کی۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ برف باری کی وجہ سے تھوڑی سی تکلیف ہوئی تھی، لیکن اسے جلد ہی حل کر لیا جائے گا، ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیئے کہ صحیح وقت پر برف باری ہوئی۔ جموں و کشمیر کو دسمبر کے بعد خشک سالی جیسے حالات کا سامنا تھا، جو اب ختم ہوگیا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ حالیہ برف باری آنے والے مہینوں میں پانی کی مناسب دستیابی کو یقینی بنائے گی، انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کی دعائیں قبول ہوگئی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ این ایچ 44 پر بحالی کا کام تیز رفتاری سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر علاقوں میں بجلی کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے، جبکہ شدید برف باری والے دور دراز کے اضلاع میں بجلی بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ دور دراز علاقوں میں شدید برفباری کی وجہ سے بحالی میں تھوڑا وقت لگ رہا ہے لیکن انتظامیہ نے مجھے یقین دلایا ہے کہ تمام علاقوں میں بجلی بحال کر دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔