کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے گرینڈ الائنس اور آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ہٹ دھرمی، بے حسی اور غیر سنجیدگی کے باعث ملازمین کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ آل پارٹیز ایکشن کمیٹی اور گرینڈ الائنس کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے سرکاری ملازمین عرصہ دراز سے اپنے جائز حقوق کیلئے جدو جہد کر رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کی ہٹ دھرمی، بے حسی اور غیر سنجیدگی کے باعث ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے۔ گرینڈ الائنس کا بنیادی اور بڑا مطالبہ DRA کو فوری تسلیم کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کے صدر عبدالجبار کاکڑ، گرینڈ الائنس کے آرگنائزر صحبت خان مندوخیل، ڈاکٹر بایزید روشان، سردار نصیب اللہ کبزئی و دیگر نے خطاب کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔ الاؤنسز منظور کئے جائیں۔ سروس سٹرکچر میں موجود نقائص کو دور کیا جائے۔

انکا مطالبہ ہے کہ ایڈ ہاک کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کیا جائے۔ محکمہ صحت اور ایجوکیشن کی تمام خالی آسامیوں پر بھرتیاں کی جائیں۔ سرکاری ملازمین کے میڈیکل اور دیگر سہولیات میں بہتری لائی جائے۔ گرینڈ الائنس کے تمام گرفتار ملازمین کو رہا کیا جائے۔ کوئٹہ میں ملازمین پر پولیس گردی کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معزز اساتذہ کرام اور پروفیسرز کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔ خواتین کو جیلوں میں ڈال کر صوبہ کے بلوچ، پشتون روایات کو پامال کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ آل پارٹیز ایکشن کمیٹی ملازمین کے مطالبات کے تسلیم ہونے تک ان کے ساتھ ہیں۔ اضلاع سے لے کر صوبہ کی سطح تک گرینڈ الائنس کیساتھ بھرپور تحریک چلائیں گے۔ صوبائی حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو آل پارٹیز ایکشن کمیٹی اس سے سخت اقدام اٹھائے گی۔ مظاہرہ میں آل پارٹیز کے کارکنوں اور ملازمین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: آل پارٹیز ایکشن کمیٹی سرکاری ملازمین گرینڈ الائنس کیا جائے نے کہا

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ