سرکاری ملازمین عرصہ دراز سے اپنے جائز حقوق کیلئے جدو جہد کر رہے ہیں، گرینڈ الائنس
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے گرینڈ الائنس اور آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ہٹ دھرمی، بے حسی اور غیر سنجیدگی کے باعث ملازمین کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ آل پارٹیز ایکشن کمیٹی اور گرینڈ الائنس کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے سرکاری ملازمین عرصہ دراز سے اپنے جائز حقوق کیلئے جدو جہد کر رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کی ہٹ دھرمی، بے حسی اور غیر سنجیدگی کے باعث ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے۔ گرینڈ الائنس کا بنیادی اور بڑا مطالبہ DRA کو فوری تسلیم کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کے صدر عبدالجبار کاکڑ، گرینڈ الائنس کے آرگنائزر صحبت خان مندوخیل، ڈاکٹر بایزید روشان، سردار نصیب اللہ کبزئی و دیگر نے خطاب کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔ الاؤنسز منظور کئے جائیں۔ سروس سٹرکچر میں موجود نقائص کو دور کیا جائے۔
انکا مطالبہ ہے کہ ایڈ ہاک کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کیا جائے۔ محکمہ صحت اور ایجوکیشن کی تمام خالی آسامیوں پر بھرتیاں کی جائیں۔ سرکاری ملازمین کے میڈیکل اور دیگر سہولیات میں بہتری لائی جائے۔ گرینڈ الائنس کے تمام گرفتار ملازمین کو رہا کیا جائے۔ کوئٹہ میں ملازمین پر پولیس گردی کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معزز اساتذہ کرام اور پروفیسرز کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔ خواتین کو جیلوں میں ڈال کر صوبہ کے بلوچ، پشتون روایات کو پامال کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ آل پارٹیز ایکشن کمیٹی ملازمین کے مطالبات کے تسلیم ہونے تک ان کے ساتھ ہیں۔ اضلاع سے لے کر صوبہ کی سطح تک گرینڈ الائنس کیساتھ بھرپور تحریک چلائیں گے۔ صوبائی حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو آل پارٹیز ایکشن کمیٹی اس سے سخت اقدام اٹھائے گی۔ مظاہرہ میں آل پارٹیز کے کارکنوں اور ملازمین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آل پارٹیز ایکشن کمیٹی سرکاری ملازمین گرینڈ الائنس کیا جائے نے کہا
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ