بھارت میں بابا بُلھے شاہ کی 100 سالہ قدیم درگاہ پر ہندوتوا کے غنڈوں کا حملہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
بھارت کے شمالی ریاست اترکاشی کے شہر مسوری میں تقریباً 100 سال قبل صوفی شاعر بابا بُلھے شاہ کی یاد میں بنائی درگاہ کی بے حرمتی کی گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق حملہ آوروں نے درگاہ میں توڑ پھوڑ کی اور مرکزی حصے میں واقع لائبریری میں مذہبی کتب کو نذر آتش کیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ تاریخی درگارہ پر ہندوتوا کے غنڈوں نے رات کے اندھیرے میں داخل ہوکر ہتھوڑے اور لوہے کی راڈوں سے عمارت کو گرانے کی کوشش کی۔
جے شری رام کا نعرہ لگاتے ہوئے انتہاپسندوں گروہ نے درگاہ کی دیواروں پر بھی اشتعال انگیز نعرے لکھے اور عطیات کے ڈبے سے نقد رقم بھی چرالی۔
پہلے تو پولیس نے روایتی ہٹ دھرمی اور مسلم دشنمی کا ثبوت دیتے ہوئے کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے صاف انکار کردیا۔
تاہم جب عوامی دباؤ بڑھا اور سوشل میڈیا پر پولیس پر سخت تنقید کی گئی تو نیند سے بیدار ہونے والی مقامی پولیس نے تین افراد ہریوم، شِوا یون اور شرَدھا کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔
پولیس نے ایف آئی آر میں ان تین مرکزی ملزمان کے علاوہ 25 سے 30 نامعلوم حملہ آوروں کو بھی نامزد کیا تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے۔
دوسری جانب ہندو رکھشا دَل کے مقامی سربراہ للت شرما نے حملے کہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ان کی ٹیم نے بلھے شاہ کو پاکستان واپس بھجوا دیا ہے۔
یاد رہے کہ بابا بُلھے شاہ 18ویں صدی کے معروف شاعر، فلسفی اور انسان دوست صوفی تھے جن کی تعلیمات روحانیت، وحدتِ وجود اور محبت پر مبنی تھیں۔
بابا بلّھے شاہ کا مزار لاہور کے نواحی شہر قصور میں واقع ہے جہاں ہر برس ان کا عرس بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے تاہم بھارت میں بھی مختلف مقامات پر ان کے نام سے منسوب درگاہیں موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔