بھارتی فلم دھرندھر کے اداکار گرفتار، ملازمہ سے 10 سال تک زیادتی کا سنگین الزام
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
بالی ووڈ فلم دھرندر کے اداکار ندیم خان کو 10 سال تک اپنی گھریلو ملازمہ کے ساتھ زیادتی کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملازمہ نے بتایا ہے کہ وہ 2015 میں ندیم خان کے گھر کام کرنے آئیں اور آہستہ آہستہ ان کے قریب ہو گئیں۔ متاثرہ خاتون کے مطابق اداکار نے شادی کا وعدہ کیا، جس کی بنیاد پر ان کے درمیان جسمانی تعلقات قائم ہوئے جو تقریباً ایک دہائی تک جاری رہے۔ اور جب اداکار نے وعدہ پورا کرنے سے انکار کیا تو خاتون نے قانونی چارہ جوئی کا راستہ اپنایا۔
یہ بھی پڑھیں: دھُرندھر میں بڑی تبدیلیاں کردی گئیں، یہ سب کس کے دباؤ میں ہوا؟
متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق تقریباً 10 سال تک رہا اور جسمانی تعلقات اس کے گھر اور ندیم کے ورسووا میں واقع گھر میں ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے کہا کہ چونکہ مبینہ جسمانی تعلقات سب سے پہلے شکایت کنندہ کے گھر میں مالوَانی پولیس کے دائرہ اختیار میں ہوئے اور متاثرہ خاتون اسی علاقے میں رہائش پذیر ہیں، اس لیے ورسووا پولیس نے زیرو ایف آئی آر کی بنیاد پر کیس مالوَانی پولیس کو منتقل کیا ہے۔ تفتیش کاروں نے بتایا کہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ فلم دھرندر دھرندر دھرندر اداکار گرفتار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ فلم دھرندر دھرندر اداکار گرفتار
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔