ریلوے پولیس نے گھر سے بھاگے 658 لڑکے،لڑکیوں کو پکڑ کر ورثا کے حوالے کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
لاہو ر:
ریلوے اسٹیشن گھروں سے بھاگنے والے بچے بچیوں کی آماجگاہ بن گئے، ریلوے پولیس نے 658 لڑکے لڑکیوں کو پکڑ کر ورثا کے حوالے کر دیا۔
اعداد و شمار کے مطابق ریلوے پولیس نے 2025 میں مجموعی طور پر 658 لڑکے لڑکیوں کو پکڑا جن میں 413 لڑکے اور 245 لڑکیاں شامل ہیں جو گھروں سے بھاگ کر مختلف ریلوے اسٹیشن آگئے تھے ان کو ان کے ورثہ کے حوالے کیا۔
مزید پڑھیںریلوے پولیس کراچی ڈویژن میں پہلی بار خاتون ہیڈ کانسٹیبل تعینات
اعداد و شمار کے مطابق ان میں 15سے 18سال بچیاں جبکہ لڑکوں میں 14سے لیکر 17 سال کی عمر کے لڑکے شامل ہیں، زیادہ تر 12 سے 15 سال کی عمر کے لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں جو گھر میں گھریلو حالات سے تنگ آکر بھاگ کر یا تو اپنے عزیز و اقارب کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر ریلوے اسٹیشن پر ہی گزارا کرتے ہیں۔
ابتدائی معلومات اور تفتیش کے دوران زیادہ تر بچوں نے گھروں سے بھاگنے کی وجہ بیروزگاری، کھانے پینے کی کمی اور والدین کی ڈانٹ ڈپٹ یا زبردستی ان کو کام کاج پر لگانے سوشل میڈیا کی چکا چوند اور عشقِ پیار محبت سمیت اچھا لائف اسٹائل بنانے کیلیے گھر سے فرار ہونا قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریلوے پولیس
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔