چلی‘ جنگلات میں آتشزدگی کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سانتیاگو: امریکی ریاست چلی کے جنگلات میں گزشتہ دنوں لگنے والی آگ سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
عالمی میڈیا کے مطابق جنوبی امریکی ملک چلی کے جنگلات میں آگ لگنے سے ابتدائی اطلاعات کے مطابق جہاں 18 افراد ہلاک ہوئے جو بعد میں ہلاکتوں میں اضافے کے بعد 50 افراد کی ہلاکتیں بتائی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر اعلیٰ حکام نے آگ کی شدت بتاتے ہوئے کہا کہ آتشزدگی کی آغاز میں 20 ہزار افراد نقل مکانی کرچکے تھے جو کہ اب تک ملنے والی رپورٹ کے مطابق 25 ہزار سے زائد افراد کی نقل مکانی ہو چکی ہے۔
مذکورہ حوالے سے میڈیا کے مطابق صدر گیبریل بورک نے جنوبی حصے کے 2 علاقوں نیوبلے اور بیو بیو میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں جبکہ دونوں علاقوں میں تقریباً 23 ہزار ایکڑ رقبہ آگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جس سے آبادیاں خطرے میں پڑ گئیں اور حکام کو انخلا کے احکامات جاری کرنا پڑے۔ یہ بات بھی علم میں رہے کہ آگ سے تا حال 300 سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔