امن بورڈ کا حصہ بننا مظلوم فلسطینی عوام کی جدوجہد سے کھلی غداری ہے، علامہ حیات عباس نجفی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
ایک بیان میں ایم ڈبلیو ایم سندھ کے صدر کا کہنا تھا کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس نام نہاد امن بورڈ سے علیحدگی کا اعلان کرے اور مسئلہ فلسطین پر بانیان پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے اصولی مؤقف پر ثابت قدم رہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی رہنما علامہ حیات عباس نجفی نے کہا ہے کہ ملکی عوام نے فلسطین کی نام نہاد امن بورڈ میں شمولیت کے فیصلے کو یکسر مسترد کردیا ہے، موجودہ حکومت کا فیصلہ قومی خودمختاری، اصولی مؤقف اور مظلوم فلسطینی عوام کی جدوجہد سے کھلی غداری ہے، امن بورڈ دراصل عالمی طاقتوں کا مسلط کردہ ایک نمائشی فورم ہے جس کا مقصد مسئلہ فلسطین کو انصاف کے بجائے سامراجی مفادات کے تحت دبانا ہے، سرزمین فلسطین کے اندرونی و بیرونی فیصلے ان کی عوامی امنگوں کے مطابق ناہونا ایک بڑی سازش ہے، ایسے کسی فورم میں شمولیت نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ یہ امت مسلمہ کے جذبات اور فلسطینی عوام کی قربانیوں کی توہین بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے فلسطین پر جاری اسرائیلی جارحیت، مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود عالمی طاقتیں ظالم کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے مظلوم کو دبانے کے منصوبے بناتی رہی ہیں، ابراہیم اکارڈ معاہدہ و نام نہاد امن بورڈ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کے ذریعے فلسطینی کاز کو کمزور اور اسرائیلی جرائم کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے، ایسے میں اس فورم میں شمولیت کا مطلب ظلم کے نظام کو تقویت دینا اور مظلوم کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حقیقی امن کبھی بھی جبر، قبضے اور ناانصافی کے سائے میں قائم نہیں ہو سکتا، امریکہ و اسرائیل خطہ میں انسانیت کے قاتل ہیں ایسے میں امن کے نام پر بنائے گئے یہ مصنوعی ادارے دراصل صہیونی مفادات کے محافظ ہیں، جن کا مقصد فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق سے دستبردار کروانا ہے، اگر عالمی برادری واقعی امن چاہتی ہے تو اسے جعلی ریاست اسرائیلی قبضے کے خاتمے، فلسطینی ریاست کے قیام اور جنگی جرائم میں ملوث صہیونیوں کے خلاف عملی اقدامات کرنا ہوں گے، ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس نام نہاد امن بورڈ سے علیحدگی کا اعلان کرے اور مسئلہ فلسطین پر بانیان پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے اصولی مؤقف پر ثابت قدم رہے، پاکستان اور عالم اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور ہر اس سازش کو ناکام بنائیں جو ان کی جدوجہد آزادی کو کمزور کرنے کے لیے کی جا رہی ہے، ہم حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ اگر ایسے فیصلے واپس نہ لیے گئے تو عوامی سطح پر ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نام نہاد امن بورڈ فلسطینی عوام
پڑھیں:
بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
گلگت: بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ خطے اور دنیا میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران میں ایک اسکول پر میزائل حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا بوجھ صرف متاثرہ ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام اٹھا رہے ہیں، اس لیے امن کی تمام کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جس نے ان کی طرح ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گلگت بلتستان کی ہر تحصیل تک پہنچے ہیں اور عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا واحد ایسا فلاحی پروگرام ہے جو براہِ راست غریب عوام تک پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے خلاف کی جانے والی تمام سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا تاریخی کردار رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو دفاعی اور معاشی دونوں لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے اور ایسی معاشی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی مقامی لوگوں کو ان کے وسائل پر حق ملکیت دلانے کے لیے کام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو حصہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کے ثمرات سب سے پہلے مقامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عوام نے انتخابات میں ان کی جماعت پر اعتماد کیا تو گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔