اپوزیشن اتحاد نے 8 فروری کو ہڑتال پر مشاورت کرلی، محمود اچکزئی نے ہرصورت احتجاج کرنے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 8 فروری کو یوم سیاہ منانے اور ہڑتال پر مشاورت کرلی۔اسلام آباد میں محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں سینیٹر راجا ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، محمد زبیر، عمار علی جان اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے شرکت کی۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں 8 فروری کے بین الاقوامی سطح پر یوم سیاہ منانے اور ملک گیر ہڑتال پر مشاورتی عمل مکمل کیا گیا۔اپوزیشن اتحاد کے اجلاس کے اعلامیے کے مطابق 8 فروری پاکستانی قوم کی اجتماعی تضحیک کا دِن ہے، اس روز عوام کے بنیادی اختیار اور حکمران چننے کے حق پر ڈاکا ڈالا گیا، عوام کو اس دن بے اختیار اور اُن کی حیثیت کو بے معنی کردیا گیا۔اعلامیے کے مطابق 8 فروری کی ہڑتال سے متعلق جماعتوں اور اُن کی تنظیموں کے لیے ہدایات مرتب کی گئیں۔اجلاس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دی گئی سزا کو آزادی اظہار آزادی اور فیئر ٹرائل کے حقوق پر کاری ضرب قرار دیا۔اپوزیشن اتحاد کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں فی الفور نئے انتخابات کرانے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
دالبندین میں زلزلے کے جھٹکے
سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہم کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا ہوسکتا ہے کہ ہم جیل بھرو تحریک شروع کر دیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ ابھی تو آغاز ہے، ابھی بہت سے مراحل باقی ہیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اعلامیے کے مطابق اپوزیشن اتحاد
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔