data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:سائبر سیکیورٹی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ایک غلط کنفیگر شدہ کلاؤڈ ڈیٹا بیس کے باعث تقریباً 14 کروڑ سے زائد صارفین کے فیس بک، انسٹاگرام، جی میل اور دیگر آن لائن اکاؤنٹس کا حساس ڈیٹا لیک ہو گیا ہے۔ یہ معلومات غیر محفوظ ڈیٹا بیس کے ذریعے عام ہوئیں جسے معروف سائبر سیکیورٹی محقق جیریمیا فاؤلر نے دریافت کیا۔

تحقیقات کے مطابق لیک ہونے والے ڈیٹا میں یوزر نیم، پاس ورڈز، ای میل ایڈریسز اور مختلف آن لائن سروسز سے منسلک اکاؤنٹس کی تفصیلات شامل ہیں، جن میں 48 ملین جی میل، 17 ملین فیس بک، 6.

5 ملین انسٹاگرام، 3.4 ملین نیٹ فلکس، 7 لاکھ 80 ہزار ٹک ٹاک، 4 لاکھ 20 ہزار بائنانس اور ایک لاکھ اونلی فینز اکاؤنٹس شامل ہیں۔ علاوہ ازیں لاکھوں یاہو، آؤٹ لک، آئی کلاؤڈ اور تعلیمی اداروں کے ای میل اکاؤنٹس بھی متاثر ہوئے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ لیک کسی ایک کمپنی کے سسٹم ہیک ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ مختلف ذرائع سے اکٹھی کی گئی معلومات کی وجہ سے ہوا، مخصوص وائرس متاثرہ موبائل فونز اور کمپیوٹرز میں داخل ہو کر براؤزر میں محفوظ پاس ورڈز، لاگ اِن تفصیلات اور دیگر حساس ڈیٹا چراتا ہے، جو بعد میں ہیکرز تک منتقل کیا جاتا ہے۔

ماہرین نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کے ڈیٹا لیکس کے نتیجے میں اکاؤنٹس کے غلط استعمال، مالی فراڈ، شناخت کی چوری اور جعلی پیغامات بھیجنے جیسے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو مختلف پلیٹ فارمز پر ایک ہی پاس ورڈ استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ صارفین فوری طور پر اپنے اکاؤنٹس کے پاس ورڈز تبدیل کریں اور دوہری تصدیق (2FA) کو فعال کریں تاکہ مستقبل میں کسی بھی غیر قانونی رسائی سے بچا جا سکے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق آن لائن اکاؤنٹس کی حفاظت میں ہوشیاری اور جدید حفاظتی اقدامات اپنانا ہر صارف کی ذمہ داری ہے تاکہ ذاتی اور مالی معلومات محفوظ رہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سائبر سیکیورٹی ماہرین آن لائن

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود