ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان کے رہنما محمد اسحاق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل بالخصوص معدنیات یہاں کے مقامی عوام کی اجتماعی ملکیت ہیں۔ کسی بھی فرد، ادارے یا حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ عوامی رضامندی، قانونی شفافیت اور مقامی مشاورت کے بغیر ان وسائل پر قبضہ کرے اسلام ٹائمز۔ ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان کے رہنما محمد اسحاق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل بالخصوص معدنیات یہاں کے مقامی عوام کی اجتماعی ملکیت ہیں۔ کسی بھی فرد، ادارے یا حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ عوامی رضامندی، قانونی شفافیت اور مقامی مشاورت کے بغیر ان وسائل پر قبضہ کرے یا ان کے بارے میں یکطرفہ فیصلے مسلط کرے۔ مجلس وحدت مسلمین واضح اور دوٹوک الفاظ میں اعلان کرتی ہے کہ روندو کے علاقے میں سروے کے نام پر کسی بھی قسم کی ٹیم یا عملے کو بھیجنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر نگران حکومت یا ضلعی انتظامیہ نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کی زبردستی، دباؤ یا طاقت کے استعمال کی کوشش کی تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تمام تر صورتحال اور ممکنہ نتائج کی مکمل ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر عائد ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ امر باعثِ تشویش ہے کہ گلگت بلتستان میں بارہا عوام کو اعتماد میں لیے بغیر معدنیات، زمین اور قدرتی وسائل سے متعلق اقدامات کیے گئے، جو نہ صرف آئینی و قانونی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں بلکہ عوامی حقوق پر کھلا ڈاکہ بھی ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ مقامی عوام کی ملکیتی حیثیت کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ وسائل پر فیصلے عوامی مشاورت اور نمائندہ اداروں کے ذریعے ہی قابلِ قبول ہوں گے۔ کسی بھی غیر قانونی سروے، لیز یا قبضے کے خلاف سخت عوامی مزاحمت کی جائے گی۔ ہم نگران حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ گلگت بلتستان، بالخصوص روندو کے حساس حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے باز رہے اور عوام کے بنیادی حقوق کا احترام کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کے کسی بھی

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار