ایران کیخلاف متوقع نئی جنگ کہیں زیادہ پیچیدہ، طویل اور تباہ کن ہو گی، صیہونی حلقوں میں تشویش بڑھنے لگی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
صیہونی اہلکار کے مطابق "ایرانی سمجھتے ہیں کہ ہم ایک چھوٹا اور گنجان آبادی والا ملک ہیں جو آسانی سے نقصان اٹھا سکتا ہے اور یہ کہ اگر امریکی حملہ ایران کے زوال پر منتج نہ ہوا تو وہ ایران کو ایک طویل جنگِ کی طرف دھکیل دے گا، جس میں ایران کو فوری جنگ بندی میں کوئی دلچسپی نہیں ہو گی۔" اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں سیکیورٹی اور انٹیلی جنس حلقوں کے اندر اس تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے کہ ایران کے خلاف متوقع نئی جنگ، جو ممکنہ طور پر امریکی حملے کے تناظر میں ہو سکتی ہے، گزشتہ جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ، طویل اور معاشی طور پر تباہ کن ثابت ہو گی۔ اسرائیلی اخبار "دی مارکر" کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایک سابق اعلیٰ اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکار نے کہا ہے کہ ایرانی قیادت اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ اسرائیل ایک چھوٹا اور گنجان آبادی والا ملک ہے، جو طویل اور شدید حملوں کی صورت میں آسانی سے متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں نے 12 روزہ جنگ سے اہم اسباق سیکھے ہیں، جس کے اثرات آئندہ کسی بھی محاذ آرائی میں واضح ہوں گے۔ صیہونی اہلکار کے مطابق "ایرانی سمجھتے ہیں کہ ہم ایک چھوٹا اور گنجان آبادی والا ملک ہیں جو آسانی سے نقصان اٹھا سکتا ہے اور یہ کہ اگر امریکی حملہ ایران کے زوال پر منتج نہ ہوا تو وہ ایران کو ایک طویل جنگِ کی طرف دھکیل دے گا، جس میں ایران کو فوری جنگ بندی میں کوئی دلچسپی نہیں ہو گی۔"
رپورٹ کے مطابق، ایران پر امریکی حملہ ضروری نہیں کہ صرف فضائی حملوں تک محدود ہو۔ "امریکی اس وقت ایران پر خفیہ طریقوں سے حملہ کرنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ ان کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔ وہ خصوصی فورسز بھیج سکتے ہیں یا اپنی خفیہ ایجنسیوں کو استعمال کر سکتے ہیں" رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ وینزویلا پر حملے اور صدر نکولس مادورو کے اغوا کی کوشش کے دوران امریکی فوج نے ایک ایسا "صوتی ہتھیار" استعمال کیا جو اس سے قبل کبھی وینزویلا کے فوجیوں کے خلاف استعمال نہیں ہوا تھا۔ اس ہتھیار کے نتیجے میں مادورو کا دفاع کرنے والے فوجیوں کی ناک اور کانوں سے خون بہنے لگا اور وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل نہ رہے۔ رپورٹ کے مطابق، امریکا ایران پر ممکنہ حملے میں بھی ایسے ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، تاہم اس سے اسرائیل کو پہنچنے والے نقصان میں لازمی طور پر کمی نہیں آئے گی۔ یہاں تک کہ اگر امریکا ایران پر فضائی حملوں کے بجائے جدید ہتھیاروں کے ذریعے حملہ کرے، تب بھی غالب امکان ہے کہ ایران اسرائیل پر جوابی حملے کرے گا۔
اسرائیل اور امریکا کی پچھلی مشترکہ جنگ کا مقصد ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو نشانہ بنانا اور اس کے جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچانا تھا۔ اگر ایران کے خلاف نئی جنگ ہوتی ہے تو اس کا ہدف ایران کے نظام کو گرانا ہو گا، اور ایسی جنگ کی نوعیت اور مدت کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے۔ صیہونی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی حملہ ایران کے زوال کا باعث نہیں بنے گا بلکہ ایران کو ایک طویل جنگِ کی طرف دھکیل دے گا، جس میں فوری جنگ بندی کی کوئی خواہش نہیں ہو گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران پر بار بار حملے کرنے کی اسرائیل کی صلاحیت محدود ہے۔ اگرچہ اسرائیلی فضائیہ اس سطح پر واپس آ چکی ہے جو 6 اکتوبر 2023ء (غزہ جنگ سے قبل) تھی، مگر یہ تیاری صرف 21 دن کی جنگ کے لیے ہے، نہ کہ دو سالہ طویل تنازع کے لیے۔ رپورٹ کے مطابق، ایک اور طویل جنگ اسرائیلی لڑاکا طیاروں کے مزید بوسیدہ ہونے کا باعث بنے گی۔ ان طیاروں کی آپریشنل عمر کا اندازہ ان کے بنانے والوں کے فراہم کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے، تاہم گزشتہ دو برسوں کے دوران ان کے شدید اور مسلسل استعمال نے اسرائیلی فوج کے لیے ان کی عملی عمر کو تین سال کم کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، سیکیورٹی اداروں نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی معیشت نے ثابت کیا ہے کہ وہ دو سالہ جنگ کا بوجھ اٹھا سکتی ہے۔ تاہم، اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایک اور جنگ اسرائیلی معیشت کے لیے بھاری قیمت لے کر آئے گی، جس میں بڑے پیمانے پر کام کاج کا رک جانا، سرمایہ کاروں کا خوف، اسرائیل سے نقل مکانی، اور دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ شامل ہو گا۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایک اور جنگ اسرائیلی حکومت کے 2026ء کے دفاعی بجٹ کے اعداد و شمار کو تبدیل کر دے گی، جو 112 ارب شیکل مقرر کیا گیا ہے۔ ایران کے خلاف پچھلی جنگ میں ایرانی میزائلوں کو روکنے پر 5 ارب شیکل خرچ ہوئے تھے۔ تاہم، جنگ کے خاتمے کے بعد ایران نے اپنے بیلسٹک میزائل ذخیرے کو دوبارہ مکمل کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس جنگ سے ایران نے یہ سبق سیکھا کہ اسے اپنے فضائی دفاع کو بہتر بنانے اور میزائلوں کی درستگی میں اضافہ کرنا ہو گا۔ رپورٹ کے مطابق، اگر ایران اپنے میزائلوں کی درستگی بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسرائیل کو آئندہ ہر جنگ میں اپنے دفاع پر مزید اخراجات کرنا پڑیں گے۔ باخبر ذرائع کے مطابق، متوقع امریکی حملے میں تاخیر کی ایک وجہ واشنگٹن میں یہ سمجھ بوجھ بھی تھی کہ ایران میں امریکی فوج کا "بینک آف ٹارگٹس" (اہداف کی فہرست) اتنا معیاری نہیں ہے، اور یہ کہ ایران نے اپنے میزائل لانچنگ مقامات کو مشرق کی طرف منتقل اور چھپا دیا ہے تاکہ ان پر حملہ مشکل ہو جائے۔ رپورٹ کے مطابق، ایسے اقدامات جون میں ہونے والی پچھلی جنگ کے آغاز میں ایرانی میزائل لانچنگ سائٹس پر حملوں کی "کامیابی" کو دہرانا مشکل بنا سکتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں اسرائیلی فضائی دفاعی نظام پچھلی جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ایرانی میزائلوں کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق امریکی حملہ ہے کہ ایران میں ایران طویل جنگ ایران پر سکتے ہیں ایران کو ایران کے سکتا ہے نہیں ہو کے خلاف جنگ کے کے لیے اور یہ کی طرف
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز