صیہونی اہلکار کے مطابق "ایرانی سمجھتے ہیں کہ ہم ایک چھوٹا اور گنجان آبادی والا ملک ہیں جو آسانی سے نقصان اٹھا سکتا ہے اور یہ کہ اگر امریکی حملہ ایران کے زوال پر منتج نہ ہوا تو وہ ایران کو ایک طویل جنگِ کی طرف دھکیل دے گا، جس میں ایران کو فوری جنگ بندی میں کوئی دلچسپی نہیں ہو گی۔" اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں سیکیورٹی اور انٹیلی جنس حلقوں کے اندر اس تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے کہ ایران کے خلاف متوقع نئی جنگ، جو ممکنہ طور پر امریکی حملے کے تناظر میں ہو سکتی ہے، گزشتہ جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ، طویل اور معاشی طور پر تباہ کن ثابت ہو گی۔ اسرائیلی اخبار "دی مارکر" کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایک سابق اعلیٰ اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکار نے کہا ہے کہ ایرانی قیادت اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ اسرائیل ایک چھوٹا اور گنجان آبادی والا ملک ہے، جو طویل اور شدید حملوں کی صورت میں آسانی سے متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں نے 12 روزہ جنگ سے اہم اسباق سیکھے ہیں، جس کے اثرات آئندہ کسی بھی محاذ آرائی میں واضح ہوں گے۔ صیہونی اہلکار کے مطابق "ایرانی سمجھتے ہیں کہ ہم ایک چھوٹا اور گنجان آبادی والا ملک ہیں جو آسانی سے نقصان اٹھا سکتا ہے اور یہ کہ اگر امریکی حملہ ایران کے زوال پر منتج نہ ہوا تو وہ ایران کو ایک طویل جنگِ کی طرف دھکیل دے گا، جس میں ایران کو فوری جنگ بندی میں کوئی دلچسپی نہیں ہو گی۔"

رپورٹ کے مطابق، ایران پر امریکی حملہ ضروری نہیں کہ صرف فضائی حملوں تک محدود ہو۔ "امریکی اس وقت ایران پر خفیہ طریقوں سے حملہ کرنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ ان کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔ وہ خصوصی فورسز بھیج سکتے ہیں یا اپنی خفیہ ایجنسیوں کو استعمال کر سکتے ہیں" رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ وینزویلا پر حملے اور صدر نکولس مادورو کے اغوا کی کوشش کے دوران امریکی فوج نے ایک ایسا "صوتی ہتھیار" استعمال کیا جو اس سے قبل کبھی وینزویلا کے فوجیوں کے خلاف استعمال نہیں ہوا تھا۔ اس ہتھیار کے نتیجے میں مادورو کا دفاع کرنے والے فوجیوں کی ناک اور کانوں سے خون بہنے لگا اور وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل نہ رہے۔ رپورٹ کے مطابق، امریکا ایران پر ممکنہ حملے میں بھی ایسے ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، تاہم اس سے اسرائیل کو پہنچنے والے نقصان میں لازمی طور پر کمی نہیں آئے گی۔ یہاں تک کہ اگر امریکا ایران پر فضائی حملوں کے بجائے جدید ہتھیاروں کے ذریعے حملہ کرے، تب بھی غالب امکان ہے کہ ایران اسرائیل پر جوابی حملے کرے گا۔

اسرائیل اور امریکا کی پچھلی مشترکہ جنگ کا مقصد ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو نشانہ بنانا اور اس کے جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچانا تھا۔ اگر ایران کے خلاف نئی جنگ ہوتی ہے تو اس کا ہدف ایران کے نظام کو گرانا ہو گا، اور ایسی جنگ کی نوعیت اور مدت کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے۔ صیہونی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی حملہ ایران کے زوال کا باعث نہیں بنے گا بلکہ ایران کو ایک طویل جنگِ کی طرف دھکیل دے گا، جس میں فوری جنگ بندی کی کوئی خواہش نہیں ہو گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران پر بار بار حملے کرنے کی اسرائیل کی صلاحیت محدود ہے۔ اگرچہ اسرائیلی فضائیہ اس سطح پر واپس آ چکی ہے جو 6 اکتوبر 2023ء (غزہ جنگ سے قبل) تھی، مگر یہ تیاری صرف 21 دن کی جنگ کے لیے ہے، نہ کہ دو سالہ طویل تنازع کے لیے۔ رپورٹ کے مطابق، ایک اور طویل جنگ اسرائیلی لڑاکا طیاروں کے مزید بوسیدہ ہونے کا باعث بنے گی۔ ان طیاروں کی آپریشنل عمر کا اندازہ ان کے بنانے والوں کے فراہم کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے، تاہم گزشتہ دو برسوں کے دوران ان کے شدید اور مسلسل استعمال نے اسرائیلی فوج کے لیے ان کی عملی عمر کو تین سال کم کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، سیکیورٹی اداروں نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی معیشت نے ثابت کیا ہے کہ وہ دو سالہ جنگ کا بوجھ اٹھا سکتی ہے۔ تاہم، اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایک اور جنگ اسرائیلی معیشت کے لیے بھاری قیمت لے کر آئے گی، جس میں بڑے پیمانے پر کام کاج کا رک جانا، سرمایہ کاروں کا خوف، اسرائیل سے نقل مکانی، اور دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ شامل ہو گا۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایک اور جنگ اسرائیلی حکومت کے 2026ء کے دفاعی بجٹ کے اعداد و شمار کو تبدیل کر دے گی، جو 112 ارب شیکل مقرر کیا گیا ہے۔ ایران کے خلاف پچھلی جنگ میں ایرانی میزائلوں کو روکنے پر 5 ارب شیکل خرچ ہوئے تھے۔ تاہم، جنگ کے خاتمے کے بعد ایران نے اپنے بیلسٹک میزائل ذخیرے کو دوبارہ مکمل کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس جنگ سے ایران نے یہ سبق سیکھا کہ اسے اپنے فضائی دفاع کو بہتر بنانے اور میزائلوں کی درستگی میں اضافہ کرنا ہو گا۔ رپورٹ کے مطابق، اگر ایران اپنے میزائلوں کی درستگی بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسرائیل کو آئندہ ہر جنگ میں اپنے دفاع پر مزید اخراجات کرنا پڑیں گے۔ باخبر ذرائع کے مطابق، متوقع امریکی حملے میں تاخیر کی ایک وجہ واشنگٹن میں یہ سمجھ بوجھ بھی تھی کہ ایران میں امریکی فوج کا "بینک آف ٹارگٹس" (اہداف کی فہرست) اتنا معیاری نہیں ہے، اور یہ کہ ایران نے اپنے میزائل لانچنگ مقامات کو مشرق کی طرف منتقل اور چھپا دیا ہے تاکہ ان پر حملہ مشکل ہو جائے۔ رپورٹ کے مطابق، ایسے اقدامات جون میں ہونے والی پچھلی جنگ کے آغاز میں ایرانی میزائل لانچنگ سائٹس پر حملوں کی "کامیابی" کو دہرانا مشکل بنا سکتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں اسرائیلی فضائی دفاعی نظام پچھلی جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ایرانی میزائلوں کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق امریکی حملہ ہے کہ ایران میں ایران طویل جنگ ایران پر سکتے ہیں ایران کو ایران کے سکتا ہے نہیں ہو کے خلاف جنگ کے کے لیے اور یہ کی طرف

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان