وادی تیراہ سے لوگوں کے انخلا کو فوج سے جوڑنا غلط بیانی ہے، عطا اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے ایک بار پھر وادی تیراہ خالی کرانے سے متعلق خبروں کو جھوٹ پر مبنی قرار دیدیا۔میڈیا سے گفتگو میں وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت نے وادی تیراہ سے متعلق جھوٹے پروپیگنڈے کا سختی سے نوٹس لیا ہے، علاقے کو خالی کرانے سے متعلق غلط خبر چلائی گئی ، علاقے سے انخلا کو فوج سے جوڑنا غلط بیانی ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہاکہ رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز رکھے ہیں، علاقے میں خفیہ اطلاعات پر آپریشن جاری رہتے ہیں، خیبرپختونخوا حکومت صوبے کے عوام کی بہتری پر توجہ دے۔اس سے پہلے وزارت اطلاعات نے بھی بیان جاری کیا تھاکہ وفاقی حکومت یا افواج کی جانب سے وادی تیراہ کو خالی کرانے کا حکم جاری نہیں کیا گیا۔وزارت اطلاعات کے اعلامیے میں بتایا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں ۔ ان کارروائیوں کے لیے آبادی کی منتقلی کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کچھ کیا جارہا ہے ۔
ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (منگل) کا دن کیسا رہے گا ؟
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: وادی تیراہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔