اسلام ٹائمز: مصنف نے اپنے تجزیے کا اختتام مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ کیا ہے "اسرائیلی اسماعیل ہنیہ کو مارنے کے لیے ایران تک گئے، وہ لبنان میں بائیک سواروں کو ڈرون سے نشانہ بنا رہے ہیں، انھوں نے ایرانی جرنیلوں کو پیچیدہ آپریشن کے بعد مارا ہے، انہوں نے یمن میں پوری حکومت کو ہلاک کیا ہے۔ لیکن اسرائیل نے آج تک شام میں جولانی کے کتنے اعلیٰ عہدیداروں کو مارا ہے؟۔۔۔۔ کوئی نہیں! اگر اسرائیلی جولانی سے اپنی قریبی دوستی کو تسلیم کریں تو جولانی کے لئے حالات سخت ہو جائیں اور اسکے ارد گرد بعض جہادی اسکے دشمن ہو جائیں، البتہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ جولانی اسرائیلیوں کے لئے ایک خرگوش کی طرح ہے، وہ جب چاہیں اس کا شکار کرسکتے ہیں۔ تحریر: سعید زرمحمدی
عبرانی میڈیا ماریو نے ترکی کے ساتھ صیہونی حکومت کے پوشیدہ تعلقات، لیکن ظاہری دشمنی اور شام میں دونوں فریقوں کے اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے باہمی تعاون کے بارے میں ایک مستند خبر دی ہے۔ ماریو اخبار نے ایک امریکی محقق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترک قوم اسرائیل سے نفرت کرتی ہے، اس لیے اردوگان کو اپنا کردار اس طرح ادا کرنا چاہیے، جیسے وہ اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن ہے۔۔۔۔ ترکیہ شام کی کرد ڈیموکریٹک فورسز (SDF) سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تھا اور اسرائیلیوں نے جنوبی شام پر قبضہ کرکے اس کی خواہش پوری کردی ہے۔ ابو محمد الجولانی نے اقتدار سنبھالا تو امریکہ اور اسرائیل اور ترکیہ کے لئے SDF کی تنظیم بے فائدہ ہوگئی۔
شامی نیٹ ورک پر نشر ہونے والے جرمنی میں مقیم آرمینیائی نسل کے شامی صحافی کاپورک الماسیان کے پیش کردہ ایک سخت اور متنازعہ جغرافیائی سیاسی تجزیہ میں کئی رازوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ ایک آزاد امریکی محقق اور مصنف ولیم وان ویگنین نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کی موجودہ حکومت ایک فرضی ڈیل کی پیداوار ہے، جس میں علاقائی عوامی طاقتوں کے مقابلے میں اسرائیل کا سب سے اہم اور بڑا کردار ہے۔ ولیم وان ویگنن کے مطابق، ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان دشمنی دھوکہ دہی سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور یہ حیران کن ہے کہ کچھ لوگ کتنے احمق ہیں، جو اس بات کو ابھی تک نہیں سمجھتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "ترک" جیسا کہ توقع کی جاتی ہے، اسرائیل سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں، اس لیے اردگان ایسا بولنے پر مجبور ہے، جیسے وہ اسرائیل کا دشمن ہو۔
وان ویگنن کے مطابق، 9/11 کے بعد پانچ سالوں میں سات ممالک کو زیر کرنے کا اسرائیلی منصوبہ ایک ایسی چیز تھی، جس کا اردگان باقاعدہ حصہ تھا، اس نے ہمیشہ فائدہ اٹھایا اور اس تعاون کو سمجھنے کا بہترین طریقہ صرف تیل کی سپلائی کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ تجزیہ کے مطابق، شام کی کرد ڈیموکریٹک فورسز (SDF) "ایک مکمل اسرائیلی منصوبہ" تھا، جس کا مقصد تیل کی نقل و حمل اور بفر زون بنانا تھا، وہ سمندر تک پہنچنے کا خواب بھی دیکھ رہے تھے۔ امریکی محقق نے مزید کہا کہ شمالی شام میں ایک "کرد ریاست" قائم کی جانی تھی، لیکن ترکوں نے کردوں کے "عزائم" کے خلاف مداخلت کی اور جلد ہی ان پر یہ واضح ہوگیا کہ "الجولانی کے اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیل اور امریکہ کے لیے ان کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔
تجزیہ کار نے اسرائیل کی داخلی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "اسرائیل کو شمال مشرقی شام کے کردوں یا جنوب میں دروز برادری کی پرواہ نہیں ہے، لیکن اسرائیل کے اندر دروز اور کرد حلقوں کی وجہ سے اسے یہ دکھاوا کرنا پڑتا ہے۔ تجزیہ نگار نے اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتامر بین گوئیر کے بارے میں حیران کن سوانحی تفصیلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صہیونی وزراء میں سب سے زیادہ انتہاء پسند اور پاگل یہ وزیر خود کرد ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ واقعی اس بات کی پرواہ کرتے ہیں۔ الجولانی کے حامیوں کے لیے، یہ دعویٰ کرنا ان کے مفاد میں ہے کہ وہ یہودیوں کو ماریں گے اور یروشلم پر قبضہ کریں گے، کیونکہ یہ موقف جہادی حلقوں کو جذب کرتا ہے۔۔۔ یہی بات ان اسرائیلیوں کے لیے بھی ہے، جو کہتے ہیں کہ وہ جولانی کے خلاف ہیں اور سامنے سامنے یہ کہتے ہیں کہ دیکھو، وہ ایک دہشت گرد ہے اور داعش سے تعلق رکھتا ہے۔ حالانکہ نیتن یاہو کے قریبی ساتھی ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں شام کے صدر جولانی کا خیرمقدم کیا ہے۔
مصنف نے اپنے تجزیے کا اختتام مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ کیا ہے "اسرائیلی اسماعیل ہنیہ کو مارنے کے لیے ایران تک گئے، وہ لبنان میں بائیک سواروں کو ڈرون سے نشانہ بنا رہے ہیں، انھوں نے ایرانی جرنیلوں کو پیچیدہ آپریشن کے بعد مارا ہے، انہوں نے یمن میں پوری حکومت کو ہلاک کیا ہے۔ لیکن اسرائیل نے آج تک شام میں جولانی کے کتنے اعلیٰ عہدیداروں کو مارا ہے؟۔۔۔۔ کوئی نہیں! اگر اسرائیلی جولانی سے اپنی قریبی دوستی کو تسلیم کریں تو جولانی کے لئے حالات سخت ہو جائیں اور اس کے ارد گرد بعض جہادی اس کے دشمن ہو جائیں، البتہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ جولانی اسرائیلیوں کے لئے ایک خرگوش کی طرح ہے، وہ جب چاہیں اس کا شکار کرسکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جولانی کے ہو جائیں لیکن اس مارا ہے کے بعد اور اس ہیں کہ کیا ہے کے لیے کے لئے
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔