امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سخت ناقد کانگریس کی مسلم رکن الہان عمر کے خلاف امریکی محکمۂ انصاف کو تحقیقات کا حکم دیدیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی کانگریس کی رکن الہان عمر کی دولت اور مالی معاملات کا جائزہ لینا شروع کردیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ تحقیقاتی ادارے کانگریس وومن الہان عمر کو بھی دیکھ رہے ہیں جو صومالیہ سے خالی ہاتھ آئیں اور اب مبینہ طور پر 44 ملین ڈالر سے زائد کی مالک ہیں۔ وقت سب کچھ واضح کر دے گا۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں مزید کہا کہ منی سوٹا میں 20 ارب ڈالر سے زائد ویلفیئر فراڈ کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس لیے الہان لوگوں کو پرتشدد مظاہروں کے لیے اکسا رہی ہیں۔

ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اپنے بارڈر امور کے مشیر ٹام ہومَن کو منی سوٹا بھیج رہے ہیں، جو براہِ راست انہیں رپورٹ کریں گے۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں وفاقی امیگریشن اہلکاروں کی فائرنگ سے نرس الیکس پریٹی کی ہلاکت کے بعد شدید احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

منیاپولس سے منتخب ہونے والی صومالی نژاد امریکی رکنِ کانگریس الہان عمر نے صدر ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل دیا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ  صدر ٹرمپ، آپ کی مقبولیت تیزی سے گر رہی ہے اور آپ گھبراہٹ کا شکار ہیں۔

الہان عمر نے صدر ٹرمپ کو مزید کہا کہ آپ اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے میرے بارے میں جھوٹ اور سازشی نظریات پھیلا رہے ہیں۔ برسوں کی تحقیقات میں کچھ ثابت نہیں ہوا۔ اپنے غنڈوں کو منی سوٹا سے نکالیں۔

خیال رہے کہ رپورٹس کے مطابق الہان عمر کی دولت میں حالیہ برسوں میں اضافہ ان کے شوہر کی کاروباری کامیابیوں کے باعث ہوا ہے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: الہان عمر منی سوٹا

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل