امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن ائیر کرافٹ کیریئر سمیت متعدد جنگی جہازوں پر مشتمل امریکی بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ میں پہنچ چکا ہے۔

امریکی فوج کے مطابق اس تعیناتی سے خطے میں امریکی عسکری موجودگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: مظاہروں کے دوران امریکا ایران کیخلاف فوجی اقدامات پر غور کررہا ہے، سی این این کا دعویٰ

امریکی بحری بیڑے کی یہ تعیناتی ایسے وقت ہوئی ہے جب ایران میں بڑے احتجاجی مظاہروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے بعد امریکا اور ایران کے تعلقات کشیدگی کی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

اگرچہ بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے پیچھے ہٹنے کا عندیہ دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ تمام آپشنز اب بھی کھلے ہیں۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہاکہ یہ بحری بیڑا علاقائی سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے مقصد کے تحت مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کسی بھی بیرونی مداخلت کے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ رکھتا ہے۔

انہوں نے یو ایس ایس ابراہم لنکن کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس قسم کے جنگی جہاز کی موجودگی ایران کے عزم یا عوام کے دفاع کے عزم کو متاثر نہیں کرے گی۔

مزید پڑھیں: امریکا ایرانی جوہری تنصیبات مکمل تباہ کرنے میں ناکام رہا، مہینوں میں دوبارہ سرگرمی شروع ہوسکتی ہے، سربراہ آئی اے ای اے

ادھر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دےگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکی بحری بیڑا ایران کا انتباہ مشرق وسطیٰ مشرق وسطیٰ کشیدگی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی بحری بیڑا ایران کا انتباہ مشرق وسطی کشیدگی بحری بیڑا

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار