امریکا ایران کشیدگی سے فضائی آپریشن متاثر، فرانس کی مشرق وسطیٰ کیلئے پروازیں معطل
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں فضائی آپریشن شدید متاثر ہونا شروع ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد عالمی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل یا منسوخ کر دی ہیں۔
اماراتی میڈیا کے مطابق فرانس نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ کے لیے اپنی تمام پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ اسی کشیدگی کے باعث نیدرلینڈز نے بھی متحدہ عرب امارات کے لیے فضائی آپریشن روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ادھر برطانیہ نے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں وقتی طور پر بند کر دی ہیں، جب کہ کینیڈا نے تل ابیب جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکا نے بھی اسرائیل کے لیے اپنی پروازوں میں احتیاطی بنیادوں پر تبدیلیاں کی ہیں تاکہ مسافروں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
علاوہ ازیں جرمنی نے بھی ایران کے لیے فضائی سروس معطل کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکا ایران کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو خطے میں فضائی آمد و رفت پر اس کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔