امریکا ایران کشیدگی سے مشرق وسطیٰ میں فضائی آپریشنز متاثر
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے مغربی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے درمیان فضائی آپریشن متاثر ہوا ہے۔
اماراتی میڈیا کے مطابق برطانیہ کی اسرائیل کیلئے پروازیں عارضی طور پر بند کردی گئی ہیں۔
کینیڈا نے اسرائیلی شہر تل ابیب کیلئے پروازیں منسوخ کر دیں۔
نیدر لینڈز نے متحدہ عرب امارات کیلئے فضائی آپریشن روک دیا ہے۔
علاوہ ازیں فرانس کی بھی پروازیں مشرق وسطیٰ کے لیے معطل کردی گئی ہیں۔
جرمنی اور آسٹریا نے ایران کیلئے فضائی سروس روک دی ہے۔
امریکا نے اسرائیل کی پروازوں میں احتیاطی تبدیلیاں کی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔