Express News:
2026-07-24@01:28:49 GMT

کراچی : پلازہ نہیں ہماری اقدارگل ہوگئی ہیں

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

ہمارے ایک دوست کہتے ہیں کہ حکومت کی غفلت سے گلُ پلازہ،گلُ ہوگیا، میں کہتا ہوں گل پلازہ ،گلُ نہیں ہوا، ہماری اقدارگلُ ہوگئی ہیں اور یہ اقدار ایک فرد سے لے کے حکومت تک تمام جگہ ہی دم توڑ گئی ہیں۔ ذرا غور کیجیے، اس سانحے میں کس کس کی غفلت شامل ہے؟ 1۔ حکومت 2 ۔ ادارے 3۔ پلازہ کی یونین 4۔ دکاندار 5۔ ہمارے رہنما۔

آیے! اب ان سب کا ایک ایک کر کے جائزہ لیں۔ 1۔ حکومت کا کام ہوتا ہے کہ وہ اداروں پر نظر رکھے، ان کی کارکردگی کو بہتر بنائے اور انھیں جدید سہولیات سے آراستہ کرے اور لوگوں کے لیے جدید سہولیات فراہم کرے لیکن اس تناظر میں جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے، حکومت نے اپنے فرائض سے غفلت بڑھتی یعنی اتنے بڑے شہر میں وہ ابھی تک کوئی جدید فائر سسٹم اور سہولیات متعارف نہیں کراسکی نہ ہی ایسے ہنگامی اقدامات سے نمٹنے والے اداروں کو بہتر بنا سکی۔

حد تو یہ ہے کہ پانی اور پٹرول کی بھی سہولیات ان اداروں کو حاصل نہیں تو ایسے میں وہ کسی ناگہانی صورتحال میں کیسے بہتر کاردگی دکھا سکتے ہیں؟ دنیا بھر میں فائر ٹینڈر اور دیگر ایسے اداروں کو جس قدر جدید آلات حاصل ہیں اور ان کے جس قدر تربیت یافتہ کارکن ہیں ہمارے ہاں اس کا آدھا بھی نہیں، اس لحاظ سے صرف یہ حادثہ نہیں، اس سے پہلے کے حادثات ہوں یا آیندہ مستقبل میں آنے والے حادثات، ان سب کی ایک بڑی ذمے داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ اب سے کچھ برسوں پہلے جب اسلام آباد میں مارگلہ پلازہ زمین بوس ہوا تھا تو ملبے میں دبے لوگوں کو بیرون ملک کے امدادی کارکن اپنے آلات لے کر آئے تھے جس کی مدد سے انھوں نے کئی روز سے دبے لوگوں کو زندہ بھی نکالا تھا۔

ان کے پاس ایسے آلات تھے جن کی مدد سے یہ معلوم کیا جا سکتا تھا کہ ملبے کے اندر کونسی جگہ کوئی جاندار موجود ہے جس کی سانسیں چل رہی ہیں، پھر نشاندھی کے بعد ایک ہول کرتے ہوئے متاثرہ فرد کو نکالا جاتا ہے، اسلام آباد میں بھی ایسا ہی کیا گیا تو کئی جانیں سلامت نکال لی گئی تھیں۔ مسئلہ تو یہی ہے کہ حکمرانوں کی اقدار اس قدر گرچکی ہیں کہ وہ عوام کو انسان ہی نہیں سمجھتے، عوام سے پیسہ نچوڑنا ہو تو ای کیمرے لگا کر چار، پانچ انچ کی نمبر پلٹ سے بھی پورے شہرکو جرمانے کر کے کمانے کی اہلیت رکھتے ہیں مگر عوام کی جان کا معاملہ ہو تو نہ گٹر کا ڈھکن نظر آتا ہے نہ ہی پٹرول اور پانی سے خالی فائر ٹینڈرڈ۔

2۔ (SBCA) اور دیگر ادارے اور یونین، ان سب کا کردار کہاں ہے؟ انھوں نے اپنی اپنی ذمے داریاں ادا کیوں نہیں کیں؟ اس حادثے میں بھی اگر ہم دیکھیں تو جو ادارے حادثات سے نمٹنے کے لیے ہیں ان کی تیاری، ان کی کارکردگی سب کے سامنے ہیں یہاں تک کہ ان کے کارکن کارروائی کے دوران خود اپنی جان گنوا بیٹھے، حالانکہ ادارہ اتنا مضبوط ہونا چاہیے تھا کہ وہ لوگوں کی جان بچاتے۔ اگر ادارے کے سربراہ اپنے ادارے کو منظم اور مضبوط بناتے تو خود ان کے فائر مین یوں ہلاک نہ ہوتے بلکہ لوگوں کی زیادہ سے زیادہ جان بچانے میں کامیاب ہوتے، ان کے پاس پانی اور پٹرول کی کمی نہ ہوتی۔

3۔ اسی طرح حادثے میں جو پلازہ تباہ ہوا ہے اس کی یونین کا احوال دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ چندہ تو باقاعدگی سے لیا جا رہا تھا مگر انھوں نے اپنے طور پہ حادثے سے بچاؤ کے لیے جو آلات لازمی ہوتے ہیں وہ بھی نہیں رکھے ہوئے تھے مزید یہ کہ راستے اس قدر تنگ تھے کہ وہاں سے آمدورفت بھی آسان نہ تھی تو پھر ایمرجنسی میں لوگ وہاں سے بھاگنے کا کوئی راستہ کیسے پاتے؟ دکانوں کی تعداد بڑھانا اور ان کے آگے مزید کاؤنٹر وغیرہ قائم کر کے راستے تنگ کر دینا اور ضرورت سے زیادہ بجلی کے تاروں پہ لوڈ ڈال دینا یہ سب کام روکنا اور ان کو درست کرنا ظاہر ہے کہ یہاں کی انتظامیہ یا یونین کو ہی کرنا چاہیے تھا گویا اس نے بھی اپنی ذمے داری نہیں نبھائی بلکہ صرف چندہ وصولی پر توجہ دی۔

4۔ دکاندار بھی وہاں پر جس طرح سے صبح سے شام وقت گزارتے تھے، وہ بھی اس طرف توجہ نہیں دیتے تھے کہ قانوناً وہ کتنا لوڈ استعمال کرسکتے ہیں؟ کتنی جگہ استعمال کرسکتے ہیں؟ سب ضرورت سے زیادہ استعمال کر رہے تھے۔ 5۔ اب آئیے، اس صورتحال کی طرف جو اوپر بیان کی گئی ہے کہ سب صبح شام ہمارے سامنے ہے اور شہر کراچی میں اس قسم کی ایک بلڈنگ نہیں بلڈنگوں کا جنگل ہے جو رہائشی بھی ہیں اور تجارتی بھی، اس صورتحال کو کوئی سمجھ رہا ہے؟ یہ ہمارے نمائندوں کا کام ہوتا ہے کہ وہ اس بارے میں سوچیں کہ اس شہر کی کیا کیا ضرورتیں ہیں؟ اور کیا کیا اہم کام ہیں جو انجام دینے چاہیے اور پھر اگر حکومت اس کو انجام نہ دے تو منتخب نمائندوں کو توجہ دلانی چاہیے اور رہنماؤں کو اس پہ بات کرنی چاہیے تاکہ عوام کو سہولیات ملے، مگر افسوس کسی کا دھیان اس طرف نہیں سب اپنے اپنے دھندے میں لگے ہوئے ہیں۔ گویا ہم سب اپنے فرائض بھول گئے اپنی سوشل ویلیوز (سماجی اقدار) بھول گئے۔

ہم سب اپنی اپنی انفرادی زندگی میں، انفرادی معاملات اور فائدے کو ہی بغور دیکھتے ہیں اور اسی میں مگن رہتے ہیں ہمیں اپنے ارد گرد کا بھی ہوش نہیں رہتا۔ ہم سب اپنے اپنے مالی مفادات پر ہی توجہ دینے لگے۔ حکومت میں شامل لوگ اپنی سہولیات دیکھتے ہیں، اپنے لیے بلٹ پروف گاڑیاں منگانے کی فکر، اپنے لیے ہیلی کاپٹر بھی ضرورت سمجھا جاتا ہے، سوال یہ کہ کیا حادثات میں پھنسے لوگوں کو نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے ہیلی کاپٹرز کی ضرورت نہیں؟ کہیں نظروں کے سامنے پورے کے پورے خاندان سیلابی ریلے میں بہہ جاتے ہیں، کہیں کوئی جوان کراچی شہر میں بلڈنگ میں لٹکا موت اور زندگی کی کشمکش میں انتظار کرتا رہ جاتا ہے مگر کوئی مدد نہیں کرسکتا، سارے ایمرجنسی کے ادارے ناکام رہتے ہیں۔

راقم نے اپنے کالموں میں لکھا ہے کہ شہرکراچی میں صرف نئی نہیں، پرانی عمارتوں کا بھی ایک بڑا جنگل موجود ہے جو خستہ حال ہوچکا ہے اور زلزلے کے کسی خطرناک جھٹکے سے، کہیں بھی حادثات ہوسکتے ہیں، لٰہذا ان تمام کی نشاندہی کرکے ان سب کی ازسر نو تعمیرکی جائے۔ گل پلازہ میں بھی سب نے دیکھا کہ کس طرح جلتی ہوئی ایک عمارت ایک طرف سے ایسے زمین بوس ہوگئی جیسے بارود سے اس کو اڑایا گیا ہو، یعنی یہ بلڈنگ خود اپنا وزن بھی بر داشت نہ کر سکی۔ آخر ہماری حکومتیں، ادارے اور رہنما وغیرہ اس اہم مسئلے کو مسئلہ کیوں نہیں سمجھتے؟ کیا ہماری نظر میں اب انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہیں رہی؟ پہلے کہیں ایک موت ہوتی تھی تو پورا محلہ سوگوار ہو جاتا تھا، اب ہم ایک حادثے کے بعد دوسرے حادثے کا انتظار کرتے ہیں۔

این جی اوزکے کارکن گل پلازہ کے زخمیوں کو اپنی اپنی ایمبولینس میں لے جانے کے لیے کھینچا تانی کرکے زخمیوں کو اور تکلیف پہنچا رہے تھے ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔ یہ سب کیا ہے؟یہ سب آخر کیوں؟ کیا ہماری انسانیت بھی ہماری سماجی اقدار کے ساتھ مرگئی ہے؟ یہ ہماری سماجی اقدار نہیں ہے ہماری اقدار کبھی ایسی نہ تھی یہ شہر کبھی ایسا نہ تھا۔ دراصل پلازہ گل نہیں ہوا، ہماری اقدارگلُ ہو گئی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہیں اور گئی ہیں نے اپنے کے لیے اور ان اپنے ا

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک