data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)خوشحالی مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ نے SME میڈ اِن پاکستان کلسٹر ایکسپو 2026 میں اپنے اسٹال کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کے لیے مؤثر اور جامع حل پیش کرتے ہوئے نمایاں مقام حاصل کیا۔ اس ایکسپو کا انعقاد اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) کے زیرِ اہتمام کیا گیا جس میں ملک بھر سے SME شعبے میں کام کرنے والے معتبر اداروں اور پلیٹ فارمز نے شرکت کی۔

SME کلائنٹس کے ساتھ کامیاب شراکت داری اور ثابت شدہ کارکردگی کی بنیاد پر خوشحالی مائیکروفنانس بینک کو اپنے خوشحالی کاروباری قرضہ جات کے باعث بھرپور پذیرائی ملی۔ یہ قرضہ پروگرام مختلف زمروں پر مشتمل ہے جو بینک کے متنوع صارفین اور ان کی مختلف کاروباری ضروریات کو مدِنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔

ثاقب حسین ، ریجنل بزنس ہیڈ،خوشحالی مائیکروفنانس بینک نے کہا”خوشحالی مائیکروفنانس بینک میں SME شعبے کے لیے ہماری اولین ترجیح استحکام اور ترقی ہے جو سادہ اور مؤثر ذرائع کے ذریعے حاصل کی جاتی ہےتاکہ کاروباری مالکان اپنے اثاثوں کو خطرے میں ڈالے بغیر اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں۔“

بینک کے اسٹال میں خوشحالی کاروباری قرضہ جات کے تحت مختلف نمایاں حل پیش کیے گئے جن میں رننگ فنانس قرضہ شامل تھا جو مؤثر کیش فلو مینجمنٹ اور ورکنگ کیپیٹل کے تسلسل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، کمرشل وہیکل فنانسنگ جو لاجسٹکس، نقل و حرکت اور تقسیم کی صلاحیت کو بہتر بنا کر کاروباری توسیع میں مدد فراہم کرتی ہے جبکہ چھوٹے کاروباروں کے لیے سولر قرضہ لاگت میں کمی، توانائی میں خود کفالت اور طویل المدتی عملی پائیداری کو فروغ دیتا ہے۔ یہ تمام حل شرکاء میں خاصی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے جو SME شعبے کی عملی ضروریات سے ان کی براہِ راست مطابقت کو ظاہر کرتا ہے۔

صدف ارشد رانا، سینئر ایریا مینیجر، خوشحالی مائیکروفنانس بینک نے کہا”ہمارے خوشحالی کاروباری قرضہ جات ہمارے صارفین کے ساتھ ہمارے مضبوط تعلق اور مختلف معاشرتی طبقات کی ضروریات کو سمجھنے کا ثبوت ہیں جو مختلف SME صنعتوں میں محفوظ اور پائیدار ترقی کے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔“

ملک کے SME شعبے کے ایک مضبوط شراکت دار کے طور پر خوشحالی مائیکروفنانس بینک اپنے دیہی، شہری اور نیم شہری صارفین کو مخصوص مالی مصنوعات، خدمات اور رہنمائی فراہم کرتا رہے گا جو پاکستان کے SME شعبے کی ترقی کے لیے بینک کے عزم اور ایک نمایاں مائیکروفنانس ادارے کے طور پر اس کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: خوشحالی مائیکروفنانس بینک کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار