پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ پھر بڑھ گیا، پانچ ماہ میں 223 ارب روپے کا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ جولائی تا نومبر 2025 کے دوران پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ میں 223 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد بجلی شعبے کا مجموعی گردشی قرضہ بڑھ کر 1837 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو جون 2025 میں 1614 ارب روپے تھا۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور بینکوں کے درمیان ستمبر 2025 میں سرکلر ڈیٹ ایک ہزار 225 ارب روپے کم کرنے کے معاہدوں کے باوجود صورتحال میں بہتری نہ آ سکی اور اکتوبر و نومبر 2025 کے دو مہینوں میں ہی گردشی قرضہ مزید 144 ارب روپے بڑھ گیا۔ نومبر 2025 تک پاور سیکٹر کا سرکلر ڈیٹ 1837 ارب روپے رہا، جو ستمبر میں 1693 ارب روپے تھا، تاہم نومبر 2024 کے مقابلے میں نومبر 2025 میں 544 ارب روپے کی کمی دیکھی گئی کیونکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ قرضہ 2381 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ واضح رہے کہ ستمبر 2025 میں وفاقی حکومت اور 18 کمرشل بینکوں کے درمیان پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں کمی کے لیے معاہدوں پر دستخط کیے گئے تھے، مگر اس کے باوجود حالیہ اعداد و شمار میں قرضے میں دوبارہ اضافے کا رجحان سامنے آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاور سیکٹر ارب روپے
پڑھیں:
موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
اسلام آباد: موبائل انٹرنیٹ پیکجز مہنگے ہونے سے ملک بھر کے لاکھوں موبائل صارفین کو اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ تفصیلات کے مطابق مختلف موبائل کمپنیوں کے متعدد کال، ہائبرڈ اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق مختلف موبائل آپریٹرز کے 15 مقبول ہائبرڈ اور ڈیٹا اونلی پیکجز کی قیمتوں میں 33 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد صارفین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کرنا ہوگی۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ کال اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں 500 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ 15 روزہ پیکجز اب 300 روپے تک مہنگے ہو گئے ہیں۔
اسی طرح ہفتہ وار ہائبرڈ پیکجز کی قیمت میں 130 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ تین روزہ پیکجز 21 روپے، دو روزہ پیکجز 20 روپے اور ایک روزہ ہائبرڈ پیکجز 5 روپے تک مہنگے کر دیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین کی سہولت کے لیے تمام نئی ٹیرف تفصیلات ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی ہیں، جہاں مختلف موبائل کمپنیوں کے کال اور انٹرنیٹ پیکجز، ان کی مدت، قیمت اور دستیاب سہولیات کا بآسانی موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیلی کام شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا اور صارفین کو مختلف موبائل کمپنیوں کے پیکجز سے متعلق درست اور مکمل معلومات فراہم کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کی قیمتوں میں اضافے سے طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروبار کرنے والے افراد اور روزمرہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔