سٹیٹ بینک کا شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے سال 2026 کے پہلے اجلاس میں شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پالیسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد پر قائم رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ مجموعی معاشی صورتحال، مہنگائی کے دباؤ اور آئندہ مالی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا، جس کا اطلاق فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔
اجلاس کے دوران کمیٹی نے ملکی معیشت کے اہم اشاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا، جس میں غذائی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مہنگائی کی حالیہ رفتار، زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال اور مجموعی معاشی سرگرمی شامل تھیں۔ کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ حالیہ مہینوں میں زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج بہتری دیکھی جا رہی ہے، جو معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ تصور کی جا رہی ہے، تاہم بیرونی دباؤ اور درآمدی ضروریات بدستور چیلنج بنی ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں داخلی معاشی مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی، جبکہ آئندہ مہینوں میں مہنگائی کے ممکنہ رجحانات اور معاشی سمت کے تناظر میں محتاط اور متوازن مانیٹری پالیسی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں کسی بھی اچانک فیصلے سے معاشی استحکام متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنا موزوں سمجھا گیا۔
اجلاس کے بعد گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بتایا کہ حالیہ عرصے میں درآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ جی ڈی پی گروتھ کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں مہنگائی کی شرح 7 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے، جس کے باعث مانیٹری پالیسی میں غیر معمولی نرمی کا امکان فی الحال موجود نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی کھاتوں میں ہونے والی تبدیلیوں، عالمی معاشی صورتحال اور اندرونی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے مہنگائی پر قابو پانا اولین ترجیح ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے تمام معاشی عوامل، بالخصوص مہنگائی کے ممکنہ اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد شرح سود کو 10.
ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ معاشی استحکام کو برقرار رکھنے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک محتاط حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے کمیٹی نے رکھنے کا
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔