Express News:
2026-07-24@02:38:22 GMT

تیراہ آپریشن ، حقائق

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

تیراہ کے آپریشن کے حوالے سے اس وقت سوشل میڈیا اور ملک میں کافی سیاست ہو رہی ہے۔ حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ دہشت گردی اور اس سے ملحقہ آپریشن کے حوالے سے ملک میں سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ ویسے بھی نیشنل ایکشن پلان کی بنیادی شرط یہی تھی کہ ملک میں دہشت گردی کے حوالے سے بیانیہ مشترکہ ہوگا۔ مختلف بیانیہ دراصل دہشت گردوں کی سہولت کاری ہے۔ وہ ملک میں اختلاف کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تاہم اس وقت تیراہ پر سیاست بھی اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ بھی ہو رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کا موقف ہے کہ انھیں تیراہ آپریشن کے لیے سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ وہاں نقل مکانی کے حوالے سے انھیں اور ان کی حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ وہ تیراہ کے لوگوں کے ساتھ ہیں، وہ وہاں ہونے والے آپریشن کے خلاف ہیں۔ سیکیورٹی فورسز ان کی مرضی کے بغیر آپریشن کر رہی ہیں۔

یہ سادہ موقف ہے جو مجھے سمجھ آیا ہے۔ ویسے تو انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ انھیں قتل کرنے کی سازش تیار ہو گئی ہے۔ مجھے یہ بات مضحکہ خیزلگتی ہے۔ انھیں قتل کرنے کی سازش کیوں تیار کی جائے گی۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ تیرہ آپریشن پر ان پر بہت دباؤ ہے اور اب وہ ایسی باتیں کر کے اس دباؤ کو اپنے اوپر سے شفٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ موضوع کو اپنی جان کی طرف لیجانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح ا ن کا موقف ہے کہ انھیں علم ہوا ہے کہ صوبے میں گورنر راج لگانے کا فیصلہ ہوگیا ہے۔

گورنر راج کا آپشن آئین میں موجود ہے۔ لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں ہے۔ وہ محدود مدت کے لیے ہی لگ سکتا ہے۔ اس کے بعد حکومت نے بحال ہونا ہوتا ہے۔ اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ کے پی میں کوئی ایسا کرائسز پیدا ہوگا کہ محدود مدت کے لیے گورنر راج لگانے کے علاوہ وفاق کے پاس کوئی آپشن ہی نہیں ہے۔ نہ سہیل آفریدی ایسا کوئی ماحول پیدا کر رہے ہیں اور نہ ہی میرے علم کے مطابق وفاق ابھی گورنر راج کے بارے میں سوچ رہا ہے۔

جہاں تک میرا سیاسی تجزیہ ہے کہ کے پی میں گورنر راج تب تک نہیں لگایا جائے گا جب تک کے پی اور وفاق کے درمیان کوئی بڑا ڈیڈ لاک نہیں ہوجاتا۔ کے پی پر پاکستان کی رٹ پر سوالیہ نشان نہیں پیدا ہو جاتے۔ کوئی سنگین سیکیورٹی مسائل نہیں پیدا ہو جاتے۔ جنھیں گورنر راج کے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا ہوگا۔ لیکن جب تک معاملات ہلکی پھلکی موسیقی کے ساتھ چل رہے ہیں، انھیں چلایا جائے گا۔ دونوں طرف سے موسیقی بھی جا رہی رہے گی۔ ہم موسیقی سن بھی رہے ہیں۔ وفاق بھی کے پی حکومت کے خلاف موسیقی جاری رکھے ہوئے ہے۔ کے پی سے موسیقی کے علاوہ کوئی کام ہو ہی نہیں رہا۔ کبھی کبھی ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سارے ماحول کو تڑکا لگا دیتی ہے۔ لیکن اس سب کے بعد بھی معاملات چل رہے ہیں۔ کوئی ڈیڈ لاک نہیں ۔ یہ بات سمجھنے کی ہے۔

جہاں تک سہیل آفریدی کی اس بات کا تعلق ہے کہ انھیں نا اہل کرنے کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے۔ جیسے گورنر راج کا آپشن موجود ہے۔ لیکن نہیں بھی موجود ہے۔ ایسے بھی نااہل کا آپشن موجود ہے۔ لیکن مجھے ابھی اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ مقدمات موجود ہیں، وہ چلتے بھی رہے ہیں لیکن مجھے فی الحال سہیل آفریدی کی نا اہلی نظر نہیں آرہا۔ کوئی بھی مقدمہ ابھی فیصلے کے قریب نہیں۔ بلکہ کسی بھی مقدمہ کا کوئی باقاعدہ ٹرائل شروع نہیں ہوا۔ اس لیے مجھے ایسا کوئی خطرہ نظر نہیں آرہا۔ سیاسی بیانیہ بنانے کے لیے یہ اچھی بات ہے، وہ جاری رکھ سکتے ہیں۔ انھیں سیاسی شہید بنانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ایک بات کی سب کو سمجھ ہے کہ سہیل آفریدی کے بعد ایک اور سہیل آفریدی ہی آجائے گا۔ اس لیے جب تک سہیل آفریدی کے ساتھ کام چل سکتا ہے۔ چلانا چاہیے۔

اب تیراہ آپریشن کی بات کر لیتے ہیں۔ سہیل آفریدی کا سیاسی بیانیہ یہ ہے کہ تیرہ آپریشن صوبائی حکومت کی مرضی کے بغیر ہو رہا ہے، انھیں یا ان کی حکومت کو کوئی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اس ضمن میں سمجھتا ہوں حقائد بر عکس ہیں۔ سب سے پہلے تیراہ کے مشران اور تیراہ کی ضلعی انتظامیہ کے درمیان کئی دن کے جرگہ کے بعد ایک معاہدہ ہوتاہے۔

اس معاہدہ پر تیراہ کے مشران اور ضلع خیبر کی ضلعی انتظامیہ کے افسران کے دستخط موجود ہیں۔ میرا سوال سادہ ہے کہ کیا سہیل آفریدی کے انتظامی افسران نے تیراہ کے مشران کے ساتھ معاہدہ ان سے پوچھے بغیر کر لیا۔ حکومت ایسے نہیں چلتی۔ یہ جرگہ بھی صوبائی حکومت کی منظوری سے ہوا تھا، وہ معاہدہ بھی صوبائی حکومت کی منظوری سے ہوا تھا۔ کسی ضلعی انتظامی افسر میں اتنی جرات نہیں کہ صوبائی حکومت کی مرضی کے بغیر کوئی کام کر لے۔ وزیر اعلیٰ اگلے دن اس کو ٹرانسفر کر سکتا ہے، او ایس ڈی کر سکتا ہے۔ اس لیے صوبائی انتظامیہ پر وزیر اعلیٰ کی مکمل رٹ موجود ہوتی ہے۔

بات صرف اتنی نہیں ہے۔ اس کے بعد 25دسمبر 2025کو کے پی صوبائی حکومت نے تیراہ سے عارضی نقل مکانی کے لیے لوگوں کی مدد کے لیے چار ارب روپے جاری کیے۔ اب جو لوگ حکومت سازی کو سمجھتے ہیں۔ پیسے جاری کرنے کا اختیار کابینہ اور وزیر اعلیٰ کے پاس ہے۔

جب آپ نے تیراہ میں عارضی نقل مکانی کے لیے پیسے جاری کر دیے اور ان جاری ہونے والے پیسوں میں سے دو ارب روپے لوگوں میں تقسیم بھی ہو چکے ہیں تو میں کیسے مان لوں کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت کی مرضی کے خلاف کچھ بھی ہو رہا ہے۔پیسے آپ جاری کر رہے ہیں، معاہدہ آپ کر رہے ہیں پھر آپ کی مرضی کہاں شامل نہیں۔ معاہدہ میں پیسے دینے کا طریقہ آپ نے طے کیا۔ لوگوں کو عارضی نقل مکانی کے لیے قائل آپ نے کیا۔ اب یہ موقف کہ معاہدہ زبردستی کروا لیا گیا، ایک مذاق سے کم نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب زبردستی کی جا رہی تھی آپ کہاں تھے۔ آپ تب کیوں نہیں بولے، آپ نے تب اسے کیوں نہیں رکوایا۔ آپ نے اپنی ضلعی انتظامیہ کو دستخط سے کیوں نہیں روکا۔ اس لیے اب اس موقف میں جان نہیں۔

مجھے اندازہ ہے کہ سہیل آفریدی کے لیے یہ کہنا کہ یہ آپریشن میری مرضی سے ہو رہا ہے، ایک سیاسی موت سے کم نہیں۔ انھیں خوف ہے کہ ان کا سوشل میڈیا ان کو کھا جائے گا۔ وہ بھی غدار بن جائیں گے۔ وہ ڈر رہے ہیں لیکن پکڑے گئے ہیں۔ اب بھاگنے کا راستہ نہیں۔ اس لیے وہ گفتگو کو اپنے قتل کی سازش کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ اپنی نااہلی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔

گورنر راج کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ وہ فوج کے خلاف گفتگو کر کے جعلی ہیرو بھی بننا چاہتے ہیں۔ شائد ان کا اندازہ تھا کہ اسٹریٹ موومنٹ میں تیراہ آپریشن سے وہ توجہ ہٹا لیں گے۔ وہ آپریشن میں مدد بھی کرتے ہیں اور اسٹریٹ موومنٹ بھی کرتے رہیں گے۔ گفتگو اسٹریٹ موومنٹ کی طرف ہی رہے گی۔ لیکن ان کی حکومت کی نا اہلی نے انھیں پھنسا دیا ہے۔ لوگوں کو بروقت ریلیف اور فنڈز مہیا کرنا ان کی ذمے داری تھی۔ انھوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ وہاں بد انتظامی ہو گئی، شور مچ گیا۔ شائد اس کے لیے وہ تیار نہیں تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: صوبائی حکومت کی سہیل ا فریدی کے تیراہ ا پریشن نقل مکانی کے کے حوالے سے ہے کہ انھیں کر رہے ہیں ا پریشن کے کی مرضی کے چاہتے ہیں گورنر راج وزیر اعلی ا جائے گا موجود ہے کی حکومت تیراہ کے ہے کہ ان کے خلاف سکتا ہے کے بغیر کے ساتھ لیا گیا ملک میں کے بعد رہا ہے کوئی ا اس لیے کی طرف کے لیے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف