بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بغیر کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا: اسد قیصر
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
—فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بغیر کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مذاکرات کی پہلی شرط بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت ہی ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیا نواز شریف کے بغیر مسلم لیگ (ن) کچھ فیصلہ کر سکتی ہے؟ کیا آصف زرداری یا بلاول بھٹو کے بغیر پیپلز پارٹی کوئی فیصلہ کرے گی؟
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ یہ ناسمجھی ہوگی کہ بانی سے مشاورت یا ملاقات کے بغیر ہی کوئی فیصلہ ہو، جب تک ملاقات نہیں ہو گی تب تک کوئی بھی چیز آگے نہیں بڑھ سکتی۔
تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ میثاق جمہوریت پر ہم ہر ایک سے بات کرسکتے ہیں ،آئین اور قانون ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم جلسے کریں۔
پی ٹی آئی کے رہنما نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی ایک آئینی اور قانونی ضرورت تھی، اپوزیشن لیڈر کے بغیر اسمبلی چل نہیں سکتی، اپوزیشن لیڈر اور اپوزیشن کی یکساں حیثیت ہے، آئین اس پر واضح ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مائنز اینڈ منرلز سے متعلق بل ہماری سیاسی سوچ اور بیانیہ کے خلاف نہیں ہوگا، ہمارے صوبے کے اختیار سے بڑھ کر کوئی بھی چیز بل میں نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کو کمزور یا پوزیشن کمپرومائز کرنے سے متعلق کوئی بھی فیصلہ نہیں ہوگا، جو بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے اسی کے مطابق یہ بل پاس ہوگا، اگر دائیں بائیں سے کوئی کوشش ہوتی ہے تو ہم ایسا بل پاس نہیں ہونے دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کے بغیر نے کہا
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں