وزیراعلی مریم کا پنجاب بھر میں پالتو شیر رکھنے کی قانونی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
وزیراعلی مریم نواز شریف نے پنجاب بھر میں پالتو شیر رکھنے کی قانونی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
وزیراعلی مریم نواز شریف نے 8 سالہ بچے واجد کا بازو ضائع ہونے کے واقعے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے یہ بڑا فیصلہ کیا۔
وزیراعلی کی ہدایت پر ننھے واجد کو گنگا رام ہسپتال منتقل کر دیا گیا، انہوں نے ننھے واجد کو جدید بائیونک آرم لگانے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلی نے واقعے کو دانستہ چھپانے، جھوٹ بول کر حقائق چھپانے اور مقامی اسپتال میں واجد کا بازو کاٹنے پر سخت قانونی کارروائی کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلی مریم نواز نے ننھے واجد اور اس کے والدین سے اظہار ہمدردی، بچے کی مکمل طبی دیکھ بھال کی بھی ہدایت کی، ڈھولا بریڈنگ فارم پر ہونے والے واقعے کو چھپانے کی کوشش کی گئی، افسوناک واقعے کی اطلاع فارم ہاؤس کے مالک نے پولیس یا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کو نہیں دی۔
پولیس اور محکمہ جنگلی حیات نے ملزمان کو گرفتار کر لیا، ایف آئی آر درج کر لی گئی، پرائیویٹ اسپتال میں بچے کے بازو پر زخم کی وجہ بھی غلط بتائی گئی۔
فارم ہاؤس کے مالک نے بچے کے والدین کو بھی جھوٹی کہانی سنانے پر مجبور کیا، پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت شرائط و ضوابط کے ساتھ پالتو 'وائلڈ کیٹس' رکھنے کے لائسنس جاری ہوتے ہیں۔
وزیراعلی مریم نواز شریف نے قانون سے وائلڈ کیٹس رکھنے کی شق ختم کرنے کی ہدایت کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیراعلی مریم نواز
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔