حیدرآباد،سرکاری و نجی عمارتوں میں فائر سیفٹی اقدامات نظرانداز
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
گل پلازہ آتشزدگی واقعے نے انتظامیہ کی خاموشی پر سوالات کھڑے کر دیے،ایس بی سی اے کی غفلت بے نقاب
کمرشل اور رہائشی عمارتوں کے نقشے منظور کرتے وقت فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ اور دیگر حفاظتی اقدامات نظرانداز
(اظہر رضوی)گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے نے حیدرآباد میں سرکاری اداروں، بالخصوص سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق SBCA کی جانب سے کمرشل اور رہائشی عمارتوں کے نقشے منظور کرتے وقت فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ اور دیگر حفاظتی اقدامات کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا، جب کہ ضلعی حکومت بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی۔تشویشناک امر یہ ہے کہ خود SBCA کی عمارت، جو سِوک سینٹر میں واقع ہے، وہاں بھی ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں، نہ ہی فائر سیفٹی کا مؤثر نظام نصب ہے اور نہ ہی فائر فائٹنگ کی تربیت یافتہ عملہ تعینات ہے۔ یہی صورتحال شہباز بلڈنگ اور دیگر سرکاری عمارتوں کی بھی بتائی جا رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سرکاری عمارتوں میں بنیادی حفاظتی انتظامات موجود نہیں تو نجی اور کمرشل عمارتوں کی حالت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جہاں کسی بھی وقت بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ SBCA کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ سِوک سینٹر میں واقع اپنی عمارت سمیت آج تک کسی بھی سرکاری عمارت میں فائر سیفٹی سے متعلق کوئی عملی اقدام نظر نہیں آیا، جو انتہائی تشویش ناک ہے۔عوامی اور سماجی حلقوں نے حکومتِ سندھ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گل پلازہ آتشزدگی کے واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور شہر کی تمام سرکاری و نجی عمارتوں میں فائر سیفٹی قوانین پر فوری طور پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: فائر سیفٹی
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
سٹی 42: کفایت شعاری اقدامات میں نائب وزیر اعظم نے مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھا کر بڑا ریلیف دےدیا
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابقنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی
کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا ۔کمیٹی نے مارکیٹوں کے اوقاتِ کار، دن کے اوقات میں اضافے اور گرمیوں کے بلند درجۂ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار بند کرنے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ کیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 11:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔
تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گی۔شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔ضروری خدمات بشمول فارمیسی، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات اور کیسز پر بھی غور کیا اور ان کی منظوری دی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات، اور آئی ٹی و ٹیلی کام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ؛ نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بھی موجود تھے
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم، اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشنز؛ نیز صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔