Jasarat News:
2026-07-24@03:30:52 GMT

بے حس معاشرہ، چڑیا گھر کے قریب نومولود کی لاش برآمد

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (رپورٹ / محمد علی فاروق) ایک بار پھر خاموش گواہ بنا ایک ایسے جرم کا جس میں قاتل کوئی فرد نہیں بلکہ ہم سب کا بے حس معاشرہ ہے۔ وہ معاشرہ جو اپنے گناہوں، خوف، غربت اور جھوٹی غیرت کی سزا معصوم نومولود بچوں کو دینے لگا ہے۔ وہ بچے کہ جنہوں نے ابھی آنکھ کھولنے سے پہلے ہی زندگی ہار دی۔ تفصیلات کے مطابق گارڈن چڑیا گھر کے قریب سڑک کے کنارے ایک پلاسٹک کے تھیلے میں بند نومولود بچے کی لاش ملی جس نے راہگیروں کو لرزا کر رکھ دیا۔ شاپر کے اندر وہ ننھی جان بے زبان، بے قصور اور بے سہارا پڑی تھی۔ جیسے کسی نے زندگی کو کوڑے کی طرح پھینک دیا ہو۔ اطلاع ملنے پر ایدھی ایمبولینس موقع پر پہنچی اور نومولود کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے سول اسپتال کراچی منتقل کر دیا گیا۔ واقعے کی اطلاع تھانہ گارڈن پولیس کو دے دی گئی ہے جبکہ پولیس نے ضابطے کے تحت کارروائی شروع کر دی۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، نہ ہی شاید آخری شہر کی کچرا کنڈیاں، نالیاں، جھاڑیاں اور سنسان سڑکیں آئے دن ایسے المیوں کی گواہ بنتی جا رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا غربت، خوف یا سماجی دباؤ کسی معصوم کی جان لینے کا جواز بن سکتا ہے۔ کیا وہ ننھا وجود جسے ماں کی گود، باپ کی پہچان اور سماج کی حفاظت ملنی تھی‘ خونخوار جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کی خوراک بننے کے لیے پیدا ہوا تھا۔ یہ خبر صرف ایک لاش کی نہیںہماری اجتماعی ناکامی کی ہے۔ ایک ایسے معاشرے کی تصویر جہاں زندگی کو بچانے کے بجائے چھپایا جاتا ہے جہاں رحم کے دروازے بند اور سنگ دلی کے تالے کھلے ہیں۔ شہریوں سے اپیل ہے کہ خدارا! اگر کسی مجبوری، خوف یا حالات کے باعث بچے کی پرورش ممکن نہیں توایدھی، چھیپا یا کسی بھی مستند رفاہی ادارے کے جھولوں میں اس معصوم جان کو محفوظ چھوڑ دیں۔ انہیں کچرا کنڈیوں، نالیوں یا سنسان جگہوں پر پھینک کر درندوں اور کیڑے مکوڑوں کی خوراک نہ بنائیں۔ ایک زندگی بچانا جرم نہیں بلکہ خاموشی اختیار کرنا جرم ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے ضمیر کو جگائیں کیونکہ اگر آج ہم نے آنکھیں بند رکھیں تو کل تاریخ ہمیں ایک بے حس معاشرے کے طور پر یاد رکھے گی۔

محمد علی فاروق گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف