data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (پ ر) تنظیم اساتذہ پاکستان ضلع کراچی کی صدر نادرہ نوید اور سیکرٹری حمنہ نشتر نے لانڈھی کورنگی کا دورہ کیا۔ اس دوران تنظیم میں شامل ہونے والی نئی اراکین سے بھی ملاقات کی گئی۔ دورے کے دوران دستور کے مطابق پاکستان تنظیم کا نصب العین‘ سنت کی روشنی میں رضا الٰہی کا حصول‘ اس کے اغراض و مقاصد اور طریقہ کار پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ خاص طور پر سابق اراکین کو فعال رکھنے کیلیے رہائشی یونٹ بنانے‘ پرانے رابطوں کو استعمال کرنے‘ نئے اراکین کی سرپرستی اور فنڈ ریزنگ کے کاموں کی ہدایات دی گئیں۔ مدیحہ زبیر کو ٹاؤن صدر مقرر کیا گیا۔ سابقہ ٹاؤن صدر عظمیٰ اور نجمہ کو مدیحہ زبیر کی رہنمائی اور تربیت کی ذمے داری سونپی گئی۔ تمام اراکین نے ان ہدایات کا خیرمقدم کیا اور مزید ایسے دورے جاری رکھنے اور کاموں میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ اہم ہدایات اور کارروائیاں: عشرہ تعلیم بنانے کے سلسلے میں بروشرز اور تنظیمی ڈھانچہ/دستور تقسیم کیے گئے۔ رمضان البارک کے حوالے سے انفاق اور استقبال رمضان پر بات کی گئی۔ متعلقہ پمفلٹس دیے گئے تاکہ سکولوں میں تقسیم کیے جائیں۔ رپورٹ بنانے کا طریقہ کار سمجھایا گیا۔ اپنے اداروں میں کیے گئے کاموں کو رپورٹ میں درج کریں۔ اختتام پر ریفریشمنٹ اور اراکین کی جانب سے ون ڈش پارٹی کا اہتمام کیا گیا جس کے بعد دورہ اختتام کو پہنچا۔

خبر ایجنسی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی