کراچی میٹرو پولیٹن یونیورسٹی میں کمپیوٹر بیسڈ امتحانات کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میٹرو پولیٹن یونیورسٹی نے کمپیوٹر بیسڈ امتحانات کا کامیاب انعقاد کردیا۔ کراچی میٹرو پولیٹن یونیورسٹی (کے ایم یو) نے ایک اہم تعلیمی پیش رفت کرتے ہوئے پہلی مرتبہ فرسٹ پروفیشنل امتحانات کمپیوٹر بیسڈ نظام کے تحت کامیابی سے منعقد کر لیے۔ اس اہم کامیابی کا سہرا وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی کی مؤثر قیادت‘ واضح وژن اور بروقت فیصلوں کو دیا جا رہا ہے جن کی رہنمائی میں یونیورسٹی نے جدید امتحانی نظام کی جانب عملی قدم اٹھایا۔ ان امتحانات کے انعقاد میں این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے کلیدی کردار ادا کیا اور اپنے کمپیوٹر لیبارٹریز اور تکنیکی سہولیات فراہم کیں۔ این ای ڈی یونیورسٹی کے تعاون سے کے ایم یو نے یہ امتحانات نہایت منظم انداز میں مکمل کیے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے این ای ڈی یونیورسٹی کی انتظامیہ اور تکنیکی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی باہمی اعتماد اور بین الجامعاتی تعاون کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت میں کے ایم یو نے یہ ثابت کیا ہے کہ سرکاری جامعات محدود وسائل کے باوجود مؤثر منصوبہ بندی اور مضبوط ٹیم ورک کے ذریعے بڑے اہداف حاصل کر سکتی ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے امتحانات کی کامیابی میں نمایاں کردار ادا کرنے والے اساتذہ اور عملے کو تعریفی اسناد دینے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ محنت اور بہتر کارکردگی کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک