سوئس رپورٹ نے ’آپریشن سندور‘ میں بھارت کے کھوکھلے دعوے اور پاکستان کی کامیابی آشکار کردی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
سوئس عسکری مورخ ادریئن فونٹانیلاز کی تحقیق ’آپریشن سندور: انڈیا –پاکستان ایئر وار (7–10 مئی 2025)‘ میں بھارت اور پاکستان کے مئی 2025 کے فضائی تصادم کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کے میڈیا میں دعوے کے برعکس، ابتدائی مرحلے میں بھارتی فضائیہ کو پاکستان کی طرف سے اہم حکمت عملی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ میں 7 مئی 2025 کی ابتدائی رات کی فضائی لڑائی میں بھارت کو ٹیکٹیکل نقصان کا سامنا قرار دیا گیا۔ پاکستان نے J-10C اورJF-17 طیاروں کے ساتھ PL-15 میزائل اور ممکنہ طور پر HQ-9/16 SAMs کے استعمال سے متعدد بھارتی طیارے مار گرائے، جن میں کم از کم ایک رافیل، ایک میرِایج 2000 اور ایک MiG-29UPG یا Su-30MKI شامل ہے۔
مزید پڑھیں:آپریشن سندور پر فلم بنتی اس سے پہلے ہی پاکستان نے پہلگام فالس فلیگ پر ڈراما بنادیا
پاکستانی فضائیہ نے اپنی مہارت سے بھارتی طیاروں کو ہتھیار گرانے پر مجبور کیا، جس میں ایک براہموس میزائل بھی سالم زمین پر ملا۔ بھارتی طیارے کم ارتفاع پر اور اچانک حملے کرکے خود کو خطرے میں ڈالتے رہے، جس سے نقصان ہوا۔ پاکستان کو بھارت کی حملوں پر حیرت نہیں ہوئی، کیونکہ فضائی دفاعی مشقیں پہلے ہی کی گئی تھیں۔
بھارت نے PL-15 میزائل کی رینج اور صلاحیت کو کم تر اندازہ کیا، اور 2019 کے تجربات (بالاکوٹ) پر زیادہ اعتماد کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کی ابتدائی اطلاعات اور عالمی ذرائع میں معلومات کی کمزوری نے پاکستان کو ابتدائی مرحلے میں سبقت دی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی کارروائیوں نے 2 ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے خطرات کو بڑھایا۔ پاکستان نے مؤثر اسٹریٹجک کمیونیکیشن کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کی، جبکہ بھارت ابتدائی طور پر اطلاعاتی میدان میں پیچھے رہا۔
مزید پڑھیں:آپریشن سندور حکومت کی انٹیلی جنس ناکامی کی علامت ہے، اکھلیش یادو
رافیل کے نقصان کی علامتی اہمیت نے بھارت کے دعوؤں پر سوالیہ نشان لگایا، اور پاکستان کو پبلک ریلیشن میں اہم فائدہ حاصل ہوا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ بھارت کی کارروائیوں نے پاکستان کی فوجی صلاحیت، سفارتی تعلقات اور عالمی اثر و رسوخ کو متاثر نہیں کیا۔
https://chpm.
سوئس تجزیہ کار نے رپورٹ میں بتایا کہ بھارت کی جانب سے آپریشن سندور کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا زیادہ تر میڈیا اور سیاسی تاثر پر مبنی تھا، جبکہ عملی میدان میں پاکستان کی حکمت عملی، پیشگی تیاری اور مؤثر دفاعی اقدامات نے ابتدائی نقصان کا تدارک کیا اور علاقائی توازن قائم رکھا۔
رپورٹ یہ بھی اجاگر کرتی ہے کہ ایٹمی ریاستوں کے درمیان کارروائیوں کے اثرات کا جائزہ لینے اور محتاط رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے، اور اس ضمن میں پاکستان کی حکمت عملی عالمی نقطہ نظر سے قابل ذکر رہی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کہ بھارت کی پاکستان کی میں بھارت رپورٹ میں
پڑھیں:
قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
سائنس دانوں نے پہلی بار قاتل وہیل (اورکا) کے ایک ایسے غیرمعمولی رویے کا مشاہدہ کیا ہے جس میں وہ مردہ سن فش کو زور دار ٹکر مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاکھوں سال پرانا وہیل مچھلیوں کا وسیع و عریض قبرستان دریافت، سائنسدان حیران
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق محققین بتاتے ہیں کہ یہ عمل یا تو خوراک کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے یا پھر ممکن ہے کہ اورکا محض تفریح کے لیے ایسا کرتی ہوں۔
امریکی غیر سرکاری تنظیم ’بینیتھ دی ویوز‘ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اورکا وہیل سن فش کی دم کو پکڑے ہوئے ہے جبکہ دوسری پوری طاقت کے ساتھ اس پر حملہ کرتی ہے جس کے نتیجے میں مچھلی کے ٹکڑے بکھر جاتے ہیں۔
محقق کیتھرین آئرس کے مطابق یہ سن فش پہلے ہی مردہ تھی اس لیے یہ شکار کرنے کا عمل نہیں تھا۔
Killer whales: orcas blow fish to bits, study finds.
Video from US-based NGO Beneath The Waves shows an orca holding the tail of a sunfish, while another whale charges with full force into the already dead fish, which explodes into pieces – possibly an attempt to turn the fish… pic.twitter.com/ZK4ZUnSzMH
— AFP News Agency (@AFP) July 23, 2026
انہوں نے بتایا کہ ممکن ہے اورکا وہیل مچھلی کو کھانے میں آسانی کے لیے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر رہی ہوں تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ وہ صرف کھیل رہی ہوں، کیونکہ اورکا وہیل اپنے شکار کے ساتھ کھیلنے کے لیے مشہور ہیں۔
کیتھرین آئرس نے کہا کہ اورکا اکثر اپنے شکار کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اپنے گروہ کے دیگر ارکان خصوصاً بچوں اور کم عمر وہیلوں کے ساتھ بھی بانٹتی ہیں۔
یہ غیرمعمولی مناظر سال 2024 اور سال 2025 کے دوران خلیج کیلیفورنیا میں دو مختلف مواقع پر ریکارڈ کیے گئے جن کی تفصیلات سائنسی جریدے فرنٹیئرز اِن ایتھولوجی میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں پیش کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیے: جرمنی میں ساحل پر پھنسے ہمپ بیک وہیل کو بچانے کی دوڑ، ریسکیو آپریشن جاری
تنظیم اوشن کیئر کے ڈائریکٹر برائے سائنس مارک پیٹر سیمنڈز نے اس رویے کو انسانوں کی اجتماعی دعوتوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے لوگ کھانے کے دوران سماجی روابط بھی قائم رکھتے ہیں اسی طرح اورکا وہیلوں میں بھی خوراک بانٹنے کا عمل سماجی تعلقات کا حصہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شاید یہ اسی طرح ہو جیسے کسی رسمی دعوت میں میزبان گوشت کاٹ کر دوسروں میں تقسیم کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اورکا وہیل دنیا کے ذہین ترین سمندری شکاریوں میں شمار ہوتی ہیں اور شکار کے لیے نہایت پیچیدہ حکمت عملیاں استعمال کرتی ہیں۔
اس سے قبل بھی انہیں برف کے بڑے ٹکڑوں پر موجود سیل مچھلیوں کو گرانے کے لیے اجتماعی طور پر لہریں پیدا کرتے دیکھا جا چکا ہے تاکہ انہیں آسانی سے شکار کیا جا سکے۔
تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی سامنے آ چکا ہے کہ بعض اورکا وہیل مردہ سالمن مچھلیوں کو اپنے سروں پر رکھتی ہیں تاہم اس عجیب رویے کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیں: ممبئی ساحل پر پھنسا 26 فٹ لمبا وہیل کا بچہ ریسکیو کے باوجود دم توڑ گیا
گزشتہ سال شائع ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق سیلش سی میں رہنے والی شدید خطرے سے دوچار اورکا وہیلوں کو سمندری گھاس کے ٹکڑے توڑ کر ایک دوسرے کی صفائی اور جسم رگڑنے کے لیے بطور آلے استعمال کرتے بھی دیکھا گیا تھا۔
ویسٹرن آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی سائنس دان ریبی کا ویلارڈ جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں نے کہا کہ یہ مشاہدہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ اورکا وہیل انتہائی ذہین مخلوق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے اس طرح کی تحقیقات لوگوں میں ان طاقتور سمندری شکاریوں کے لیے مزید احترام پیدا کریں گی۔
تحقیق کے مطابق سن فش دنیا کی سب سے بڑی ہڈی والی مچھلیوں میں شمار ہوتی ہے جس کا وزن 2 ہزار کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔ اس کا چپٹا جسم اور منفرد ساخت اسے دیگر مچھلیوں سے ممتاز بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی سمندر میں وہیل اور ڈولفن کی 27 اقسام کی موجودگی خوش آئند ہے، وفاقی وزیر بحری امور
ماہرین نے واضح کیا کہ سن فش عام طور پر اس طرح ٹکڑوں میں نہیں بکھرتی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اورکا وہیل کی ٹکر غیرمعمولی طور پر طاقتور تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اورکا وہیل دلچسپ تحقیق سن فش قاتل وہیل کلر وہیل وہیل پر تحقیق وہیل کی سن فش کو ٹکر